بال ممالیہ جانوروں کی کھال پر اگتے ہیں۔ وہ بال جو انسان کے علاوہ دوسرے ممالیہ جانوروں کے جسم پر اگتے ہیں انھیں “فر“ کہا جاتا ہے، بھیڑ کے جسم پر انھیں گول بالوں کو اون کہا جاتا ہے۔ کسی بھی جسم پر اگر بال موجود نہ ہوں تو اسے “گنجا پن“ کہا جاتا ہے۔ انسانوں اور چند دوسرے . جانوروں میں ارتقا کی وجہ سے بالوں کی بڑی مقدار اب جسم پر موجود نہیں ہوتی اور کچھ ممالیہ جانور جیسے ہاتھی وغیرہ کے جسم پر سے یہ بال مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں۔

اغلاط بالترميم

کئی غیر ممالیہ جانور جیسے کئی کیڑے اور مکڑی وغیرہ کے اجسام پر بھی بال نما اجسام موجود ہوتے ہیں ان کو حیاتیاتی زبان میں اصل بال تو نہیں گردانا جاتا۔ انھیں Bristleکہا جاتا ہے۔ اسی طرح کئی پودوں کی چھال پر بھی بال نما اجسام موجود ہوتے ہیں، یہ بھی اصل بال نہیں ہوتے بلکہ انھیں Trichomes کہا جاتا ہے۔

بالوں کا مقصدترميم

 
ببر شیر کے جسم پر موجود بالوں کی وجہ سے نر زیادہ بڑا اور ہیبت ناک نظر آتا ہے

کسی بھی زندہ جسم پر بالوں کے کئی مقاصد ہو سکتے ہیں، جیسے کہ:

  • یہ جلد کے خلیوں کو روشنی سے بچاتے ہیں اور اس طرح فضا میں موجود حرارت اور نقصان دہ شعاعوں سے جسم محفوظ رہتا ہے۔
  • یہ جلد کو ٹھنڈا ہونے سے بچاتے ہیں اور اس طرح جسم کی حرارت کو محفوظ رکھتے ہیں۔
  • کئی جانور جو ایسے جنگلات میں رہتے ہیں جہاں بارشیں بہت زیادہ ہوں، وہاں جسم پر موجود بال بارش سے بچاؤ کا کام بھی دیتے ہیں۔
  • بالوں کی بنیاد میں پسینہ پیدا کرنے والے غدود ہوتے ہیں۔ ان کی مدد سے جسمانی درجہ حرارت کو برابر رکھا جاتا ہے اور اضافی نمی کو جذب کیا جاسکتا ہے۔
  • کئی جانور بالوں کی مدد سے دوسرے شکاری جانوروں سے بچاؤ کا کام بھی لیتے ہیں۔

انسانی بالترميم

 
ایک شخص کے سر، منہ اور جسم پر بال

انسانی جسم میں بال سر پر بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ سر کے بالوں کی تعداد مختلف نسلوں میں کم یا زیادہ ہوتی ہے۔ ایشیائی اور شمالی امریکا کے باشندوں کے جسم پر بالوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔

تاریخ اور نسل انسانی میں بالوں کی اہمیتترميم

انسان سر کے بالوں بارے نہایت دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ خود کو سنوارنے کے لیے مرد وخواتین میں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ بالوں کو رنگنا، مختلف انداز سے ڈھالنا اور کئی طرح سے سنوارنے کا رواج رہا ہے۔ بعض مذاہب میں جسم کے بالوں کے کاٹنے پر پابندی بھی ہے۔ اور کئی دوسرے معاشرے جسمانی بالوں کو پسند نہیں کرتے۔

کے بال وقت سے قبل بال سفید ہو رہے ہیں؟ اس کی وجوہات جانئے اس مضمون میں


آج کل نوجوان جس پریشانی کا شکار ہو رہے ہیں ، ان میں سے ایک وقت سے بالوں کا سفید ہو جانا بھی ہے۔ لڑکے ہوں یا لڑکیاں سب ہی اس مسئلے کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ، وقت سے قبل بال سفید کیوں ہوجاتے ہیں ، جانئے ہماری ویب کی جانب سے پیش کردہ اس مضمون میں۔

وٹامن بی 12کی کمی:

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نوجوانوں میں وٹامن بی 12 کی کمی ہوجائے تو ان کے بال وقت سے قبل سفید ہونے لگتے ہیں۔ یہ وقت سے قبل بالوں کے سفید ہونے کی سب سے عام وجہ ہے۔ یاد رکھیں کہ وٹامن بی 12 کی کمی کی وجہ سے جہاں بال سفید ہوجاتے ہیں وہیں بالوں کا گرنے کا عمل بھی تیز ہو جاتا ہے ۔ اسلئے کوشش کریں کہ ایسی غذائیں استعمال کریں، جن میں وٹامن بی موجود ہو۔ انڈہ، گوشت، مچھلی کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔ ڈاکٹر کے پاس جاکر وٹامن بی 12 کی سپلی منٹس لکھوالیں اور ان کا استعمال کریں۔


تھائی رائیڈ کے مسائل: اگر کسی کو تھائی رائیڈ کا مسئلہ رہتا ہے تو اس کے بال بھی وقت سے قبل سفید ہو جاتے ہیں۔ مختلف ریسرچز کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تھائی رائیڈ کے مسائل کے شکار افراد کے بال تیزی سے سفید ہونے لگتے ہیں۔ لہٰذا فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں اور تھائی رائیڈ کا علاج کروائیں۔


جنک فوڈ کا زیادہ استعمال: جب سے آن لائن کھانا گھروں میں ڈیلیور کی جانے والی سروس ہمارے یہاں مقبول ہوئی ہے، زیادہ تر لوگ باہر سے ہی کھانا آرڈر کرتے ہیں۔ ان دنوں جنک فوڈ کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔ جان لیں کہ وقت سے قبل بال سفید ہونے کی ایک بڑی وجہ جنک/ فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال بھی ہے ۔ اگر نوجوان متوازن گھریلو غذا کا استعمال کریں گے تو انہیں ان غذاؤں سے فیریٹن، کیلشیم، وٹامن ڈی تھری، وٹامن بی 12، کوپر، زنک اور آئرن کا حصول ممکن ہوسکے گا، لیکن کیونکہ آج کل گھریلو کھانے کم کھائے جا رہے ہیں تو یہ تمام غذائی اجزا جسم کو نہیں مل پاتے ۔ جنک فوڈ میں یہ غذائیت موجود نہیں ہوتی، لہٰذا ان کی کمی کی وجہ سے بال سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔


ذہنی دباؤ: جدید دور میں اسٹریس /ذہنی دباؤ کا ہر انسان شکار ہو رہا ہے ۔ نوجوان بھی اپنی پڑھائی، جاب اور اردگرد کے حالات کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ اسٹریس لینے کی وجہ سے بھی انسان کے بال قبل از وقت سفید ہو جاتے ہیں۔ اس لئے وہ نوجوان جن کے بال سفید ہو رہے ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ زیادہ ٹینشن نہ لیں، ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہوں، کوشش کریں کہ اپنے ذہن کو بٹائیں۔ اس طرح ذہنی دباؤ کو کم کرکے بالوں کو سفید ہونے سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے ۔


کیمیکلز والی ہئیر پروڈکٹس کا استعمال: آج کل بالوں کو خوبصورت دکھانے اور اسٹائلنگ کرنے کیلئے ہئیر پروڈکٹس کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ نوجوان خوشی خوشی روزانہ ان پروڈکٹس کو بالوں پر لگاکر اپنے کالج، یونیورسٹی اور آفسز جاتے ہیں ۔ جان لیں کہ کیمیکلز والے شیمپو، ہئیر پروڈکٹس، جیل، اسپرے وغیرہ بھی بالوں کو تیزی سے سفید کرنے کی ایک بڑی وجہ ہیں ۔ یہ کیمیکلز بالوں کے ”میلانن“ لیول کا کم کردیتے ہیں، جس سے بالوں کا قدرتی رنگ ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور وہ سفید ہونے لگتے ہیں۔


جینیاتی طور پر وراثت میں ملنا: کچھ لوگوں کے ننھیال یا ددھیال کے لوگوں کے بال جلدی سفید ہو جاتے ہیں، یا ان کے والدین کے بال وقت سے پہلے سفید ہوئے ہوں گے تو اس وجہ سے بھی نوجوانوں کے بال وقت سے پہلے سفید ہوجاتے ہیں۔ انہیں جینیاتی طور پر وراثت میں یہ چیز ملتی ہے ، لہٰذا قبل از وقت بالوں کے سفیدہونے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہوتی ہے