جو مقدس ہستیاں بدھوں کی جانشین یا روحانی اولاد کہلائیں اور مخلوق کی رہنمائی و دست گیری میں مصروف ہوگئیں وہ بودھی ستو یا بودھی ستوا کہلائیں ان سے متعلق عقیدہ یہ ہے کہ جب کوئی انسان نروان کے قریب ہوتا ہے پھر دوسروں کو نجات دلانے کے لیے اپنی کوشش بروئے کار لاتا ہے اور عوام ان سے برکات و فیوض حاصل کرتے ہیں مہایان مکتب فکر کے مطابق بودھی ستوؤں نے عہد کر رکھا ہے کہ وہ تمام عالم کو مقام بدھ یعنی نروان دلانے کے بعد نروان کو قبول کریں گے۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. محمد ناصر (2016ء). "اسلام اور ہندوستانی مذاہب میں امن و جنگ کی تعلیمات کا تقابلی جائزہ". صفحات 113–114.