بھارت میں بچوں کی قربانی

بھارت میں بچوں کی قربانی (ہندی: भारत में बच्चों की बलि) کی رسوم قدیم زمانے سے چلی آ رہی ہیں۔ یہ رسمیں قدیم مصر، میکسیکو، چین اور پیرو میں تک دیکھی گئی ہیں۔ بھارت میں بچوں کی قربانی کے مقدمے عدالتوں میں زیر دوران ہوئے ہیں اور ان پر کڑی سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔ جدید زمانے میں تعلیم کے عام ہونے کے سبب شہری اور نیم شہری علاقوں میں بچوں کی قربانیاں کم ہی دیکھی جاتی ہیں۔ ان رسوم کا دیہی اور قبائلی علاقوں میں بھی چلن کم ہی ہو گیا ہے۔ تاہم کچھ تانترک طبقے اور قدامت پسند لوگ انسانی قربانی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یہ لوگ بہ طور خاص بچوں اور کم عمروں کی بلی کی وکالت کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا مقصد پریشان حال افراد سے ان کی لاچاری اور بدحالی کے کرشماتی ازالے کے عوض انسانی اور بہ طور خاص بچوں کی بلی ایک مفید حال بتانا اور لوگوں سے پیسہ ٹھگنا ہے۔ ایسے کئی معاملے آئے دن بھارت میں پیش آتے رہتے ہیں۔ ان معاملوں میں روزگار کا حصول، کسی موذی شخص کو قابو کرنا، بچوں اور خاص طور پر غیر خوش شکل لڑکیوں کی شادی کروانا، اولاد کا حصول یا اسی طرح اولاد نرینہ کا حصول، جائداد کے ناجائز قبضے کو دور کرنا اور اس کو واپس اپنے قبضے میں لے لینا، نافرمان اولاد پر گرفت لگانا، موذی اور جان لیوا مرض سے نجات پانا وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے لیے کبھی کبھی انسانی قربانی کے علاوہ جانوروں کی بھی قربانی دی جاتی ہے۔ کبھی کبھی تو کچھ تانترک ضرورت مندوں کو اپنے ہی جسم کے ایک عضو کو قربان کرنے کے لیے بھی کہ چکے ہیں اور اس کی تکمیل لوگوں نے کر دی تھی۔ ذیل میں چند واقعات کو درج کیا جاتا ہے جس سے ان رسوم کی آج بھی بھارت میں روانی دکھائی پڑتی ہے۔

ملک میں بچوں کی قربانی کی کچھ مثالیںترميم

  • اتر پردیش میں دور کے ایک ب رہا گاؤں میں ہندو دیوی کالی کی تصویر پتھر پر ناصافی کی کیفیت میں نقش ہے۔ اس کی لمبی زبان دہشت زدہ عقیدت مندوں کو اپنے آگے سپردگی پر مجبور کرتی ہے۔ مورتی سے جڑے آٹھ ہاتھوں میں سے کسی ایک میں ایک جدید طور قلم کیا گیا سر گھومتا رہتا ہے۔ اس مورتی کا گلا انسانی کھوپڑیوں کی مالا سے بنا ہوتا ہے۔ شکستیدہ دیوار پر خون کے دھبے لگے ہیں اور متصلہ تاریک کمرہ قربان گاہ کا مقام بنا ہوا ہے جہاں اس مقصد کے لیے لکڑی کا ڈھانچا بنا ہوا ہے۔ یہاں کے گہرے نشانات کسی نہ کسی لڑکے کی بلی کے گواہ ہیں جو اس دیوی کے لیے قربان کیا گیا ہے۔[1]
  • 1999ء سے 2006ء کے بیچ ایک اندازے کے مطابق اتر پردیش میں تقریبًا دو سو بچوں کی قربانیاں دی چا چکی ہیں۔[2]
  • تانترک طاقتوں کے حصول کے لیے مردہ بچے کو نوالہ بنانا: ایک تانترک اور اس کے عقیدت مند نے اتر پردیش کے جونپور علاقے میں ایک 18 سالہ مرد بچوں کے اس کی قبر سے کھود کر نکالا۔ پھر یہی لوگ مردہ لاش کا سر الگ کر کے لڑکے کی باقیات کو کھا گئے۔ اس فعل کی وجہ بعد میں پولیس کے رو بہ رو ان لوگوں نے یہ بتائی کہ انہیں تانترک طاقتوں کا حصول ضروری تھا، جس کے لیے بچے کو نوالہ بنایا گیا۔[3]
  • اولاد کی قربانی: اوڈیشا کے پھول بنی ضلع میں ایک سات سالہ لڑکے کو خود اسی کے باپ نے گاؤں کی ایک دیوی کے رو بہ رو خوشی سے قربان کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق اس شخص نے پہلے ایک بکرے کی قربانی دی اور اس سے جاری خون کو دیکھا۔ پھر یکایک اس کی نظر اپنے ہی سات سالہ لڑکے پر پڑی جسے بعد میں اس نے دیوی کو مزید خوش کرنے کے لیے قربان کر دیا۔ یہ واقعہ 2006ء کا ہے۔[4]
  • اچھی فصل کے لیے بلی: چھتیس گڑھ کے کچھ قبائل میں یہ اعتقاد ہے کہ 12 سال سے کم عمر کے بچوں کی بلی کی وجہ سے اچھی فصل رو نما ہوتی ہے۔ 2011ء کی ایک اطلاع کے مطابق ایک سات سالہ بھارتی لڑکی کو دو کسانوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ پھر منتشرہ جسم سے کلیجا نکالا اور اسے چڑھاوے کے طور پیش کیا تاکہ ان کے کھیتوں میں اچھی فصل ہو۔[5]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. Indian cult kills children for goddess | World news | The Guardian
  2. Horror of India's child sacrifice, Deccan Herald- 17. 4.2006 By NAVDIP DHARIWAL
  3. Tantrik held for eating corpse, Deccan Herald - 11. 4. 2006
  4. 7-yr-old boy sacrificed in Orissa, Deccan Herald - 11. 7. 2006
  5. "Bali" This Human Sacrifice still Happening in India? Read the Real Story! - Stressbuster | DailyHunt