پنجاب کا لفظ ابن بطوطہ کی تحریروں میں ملتا ہے جو اُن نے 14ویں صدی عیسوی میں اس علاقے کا دورہ کرنے ہوئے اِرقام ہوا، اس کا وسیع پیمانے پر استعمال سولہویں صدی کے دوسرے حصے کی کتاب ”تاریخ شیر شاہ سوری“ میں ملتا ہے، جس میں پنجاب کے شیر خان کے قلعے کی تعمیر کے حوالے سے ملتا ہے۔ اس سے پہلے پنجاب کا تذکرہ مہابھارت کے قصے کہانیوں میں بھی ہے جو پنجا ندا (پانچ ندیاں) کے حوالے سے ہے۔ اس کے بعد آئین اکبری میں ابو الفصل نے اِرقام کیا ہے کہ یہ علاقہ دو حصوں میں منقسم تھا، لاہور اور ملتان۔ اس آئین اکبری کے دوسرے حصے میں ابوالفصل نے پنجاب کو پنجند اِرقام کیا ہے۔ اس کے علاوہ مغل بادشاہ جہانگیر نے اپنی تزک جہانگیری میں پنجاب کا لفظ استعمال کیا ہے۔ پنجاب کا لفظ فارسی کے پنج یعنی پانچ اور آب یعنی پانی سے ماخوز ہے۔ یعنی پانچ دریاؤں کی سرزمین۔ یہ وہ پانچ دریا ہے جو اس علاقے میں بہتے ہیں۔ آج کل ان میں سے تین دریا تو مکمل طور پر پاکستانی پنجاب کے علاقوں میں بہتے ہیں۔ جبکہ دو دریاؤں کے مرکز بھارتی پنجاب سے ہو کر آتے ہیں۔ اس سے قبل اس کا نام سپت سندھو یعنی سات دریاؤں کی سرزمین تھا۔ تاریخ جہلم میں انجم سلطان شہباز نے اِرقام کیا ہے کہ سپت کا مطلب سات اور سندھو کا مطلب دریا ہے۔ نیز شیر شاہ نے جو قلعہ بنایا تھا وہ جہلم میں قلعہ روہتاس کے نام سے ہے۔ ْ

ٹیکسلا ایک قدیم تاریخی مقام

وادئ سندھ تہذیبترميم

وادئ سندھ تہذیب جو دنیا کے پرانے ترین انسانی تہذیبوں میں سے ایک اہم تہذیب ہے،پنجاب میں بھی اس تہذیب کے گہرے اثرات موجود ہیں جن میں ہڑپہ قابل ذکر ہے۔

مزید دیکھیےترميم

ٌْ