تجریبی صیغہ (empirical formula) سے مراد علم کیمیاء میں کسی بھی مرکب کے ایسے سادہ صیغے کی ہوتی ہے جس میں اس مرکب کے سالمے کو تشکیل دینے والے جواہر کی باہم نسبت کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر NaCl2 کا صیغہ صرف اتنا ظاہر کرتا ہے کہ اس مرکب کے سالمے میں Na اور Cl کے جواہر، بالترتیب ایک نسبت دو کے مطابق پائے جاتے ہیں۔ تجریبی صیغے میں اس سالمے کی ہم اجزائی (isomerism)، ساخت اور جواہر کے مطلق عدد کا کوئی تذکرہ نہیں پایا جاتا۔ تجریبی کا لفظ ؛ عربی لفظ تجریب سے بنا ہے جس کے معنی آزمائشوں کی رو سے حاصل ہونے والے یا تجربات سے حاصل ہونے والے کے ہوتے ہیں ؛ اردو میں یہ لفظ (عربی تجریب و تجربہ کی طرح) لغات میں مستعمل ہے[1] جبکہ تجرباتی کا لفظ experimental کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس لفظ کو اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ تحلیلی کیمیاء (analytical chemistry) کی ایک طراز، بنام عناصری تحلیل (elemental analysis) کو کسی بھی مرکب میں موجود مختلف عناصر کی باہم نسبت معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس عناصر کی باہم نسبت کی مدد سے سالمات میں موجود جواہر کی نسبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جس کو ایک صیغے کی صورت میں ظاہر کرتے ہیں ؛ اب چونکہ تحلیلی کیمیا ایک تجرباتی طریقۂ کار ہے یعنی مختبر میں تجربات کیے جاتے ہیں اسی وجہ سے اس صیغے کو تجریبی صیغہ کہا جاتا ہے۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. ایک آن لائن لغت میں تجریبی کا اندراج۔