عنصر (تلفظ: ایلیمنٹ ،انگریزی: element) دو یا دو سے زیادہ جواہر کے ملنے سے وجود میں آتا ہے۔ اب تک دریافت شدہ عناصر کی تعداد 118 ہے جن میں سے قدرتی طور پر پائے جانے والے عناصر کی تعداد 94 ہے۔ قدرتی طور پر عناصر آزاد اور متحد دونوں صورتوں میں پائے جاتے ہیں۔ عنصر کی جدید تعریف کچھ یوں ہے۔

تعریفترميم

عنصر ایک ایسی شے جو ایک ہی قسم کے ایٹمز پر مشتمل ہو، جس کا ایٹمی نمبر یکساں ہو اور جسے کیمیائی طریقوں سے سادہ تر شے میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

تاریخترميم

ابتدائی دور میں 9 عناصر معلوم تھے۔ جو گندھک (S)، لوہا (Fe)، کاربن (C)، سونا (Au)، چاندی (Ag)، قلع (Sn)، پارہ (Hg)، سیسہ (Pb) اور تانبا (Cu) تھے۔ انیسویں صدی کے اختتام تک 63 عناصر دریافت کیے جا چکے تھے جبکہ بیسویں صدی کے اوائل میں تقریباً تمام قدرتی طور پر پائے جانے والے عناصر دریافت کیے جا چکے تھے۔ اب تک دریافت شدہ عناصر کی تعداد 118 ہے۔

علاماتترميم

عناصر کو علامات (symbols) کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ علامات دراصل ان عناصر کے انگریزی، یونانی، لاطینی یا جرمن ناموں کا مخفف ہوتے ہیں۔ اگر یہ علامت ایک حرف پر مشتمل ہو تو اسے بڑے حرف (capital letter) سے ظاہر کیا جاتا ہے جیسے کہ "آکسیجن" کو "O" سے۔ اگر علامت دو حروف پر مشتمل ہو تو اسے چھوٹے حروف (small letters) سے ظاہر کیا جاتا ہے جیسے کہ "نکل" کو "Ni" سے ۔

طبیعی خواصترميم

طبیعی طور پر عناصر ٹھوس، مائع اور گیس تینوں حالتوں میں پائے جاتے ہیں۔ برومین (Br) اور پارہ (Hg) ایسے دو عناصر ہیں جو مائع حالت میں پائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عناصر ٹھوس حالت میں پائے جاتے ہیں جبکہ چند عناصر گیس کی حالت میں پائے جاتے ہیں۔

ہم جاترميم

ایک عنصر کے تمام جوہروں کا جوہری نمبر ایک جیسا ہوتا ہے۔ مثلاً ہائیڈروجن، جس کے ہر جوہر میں ایک پروٹون ہوتا ہے یعنی اُس کا ایٹمی نمبر 1 ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ایک عنصر میں شامل ایٹموں کا کمیت نمبر ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتا ہے۔ ایسے تمام جوہر جن میں جوہری عدد یکساں مگر کمیت نمبر مختلف ہوں ،ہمجاء کہلاتے ہیں۔