تفسیر ثنائی ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری کی تفسیر ہے، جو معروف اہل حدیث عالم مناظر تھے۔ تفسیر ثنائی ایک آسان، مختصر اور مخالفین اسلام کے اعتراضات کے جواب پر مشتمل تفسیر ہے، جو 8 جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس تفسیر کی تکمیل میں 36 سال کا عرصہ لگا۔

اس تفسیر کی پہلی جلد 1895ء اور آخری جلد 18 فروری 1931ء کو شائع ہوئی۔ اس تفسیر میں ثناء اللہ امرتسری نے اس زمانہ میں مخالفین کی طرف سے اسلام کے خلاف جو شبہات پیش کیے جاتے تھے ان کا علمی اور تحقیقی جواب دیا ہے، اور اسلام کی حقانیت کو ٹھوس دلائل سے ثابت کیا ہے۔ اس تفسیر کے لکھنے کا محرک مولانا کے ایک عزیز نے تفسیر ثنائی کے شروع میں نقل کیا ہے۔

آیات کا ترجمہ سہل انداز میں کیا گیا ہے۔ تفسیر مختصر مگر جامع ہے۔ عام طور سے مصنف نے متشابہ آیات کی تفسیر اور بعض نزاعی مسائل میں سلف یعنی متقدمین علما کے مسلک کو راجح قرار دیا ہے؛ البتہ بعض مقامات پر جمہور علما کے مسلک سے انحراف بھی کیا ہے۔ اس لیے ان کے معاصر علما نے اس تفسیر پر تنقید بھی کی ہے۔[1] قرآن مجید کی اردو تفاسیر میں تفسیر ثنائی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس تفسیر میں قادیانیت اور نیچریت کا رد کیا گیا ہے۔ تفسیر ثنائی اردو زبان میں ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے:

جلد صفحات سورۃ
اول 148 سورہ فاتحہ تا سورہ بقرہ
دوم 162 آل عمران تا النساء
سوم 184 سورۃ المائدہ تا سورۃ الاعراف
چہارم 206 سورۃ الانفال تا سورۃ النمل
پنجم 200 سورۃ الاسرا تا سورۃ الفرقان
ششم 200 سورۃ الشعرآء تا سورۃ یٰس
ہفتم 202 سورۃ الصافات تا سورۃ النجم
ہشتم 184 سورۃ القمر تا سورۃ معوذتین

حوالہ جاتترميم

  1. تفسیر ثنائی،ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری، ناشرمکتبہ قدوسیہ،لاہور