تیرتھ رام فیروز پوری

متحدہ ہندوستان کے ناول نگر، افسانہ نگار اور مترجم

منشی تیرتھ رام فیروز پوری ایک ہندوستانی ناول نگار، افسانہ نگار، مدیر اور مترجم تھے، انھوں نے درجنوں کتابوں کا اردو زبان میں ترجمہ کیا۔[1] نیز ایک ماہوار رسالہ ترجمان بھی شائع کرتے تھے۔ ان کی تعلیم میٹرک تھی بغرض معاش 1930ء تا 1947ء لاہور میں مقیم رہے تقسیم ہند کے بعد جالندھر میں جا بسے۔ انہوں نے 250 یا 150 سے زائد انگریزی کتب کے اردو تراجم کیے جو 60 ہزار سے زائد صفحات بنتے ہیں [2]

تیرتھ رام فیروز پوری
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1885  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فیروزپور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1954 (68–69 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (1885–15 اگست 1947)
Flag of India.svg بھارت (15 اگست 1947–1954)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ناول نگار،  مترجم،  افسانہ نگاری  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں فسانۂ لندن  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

سوانحترميم

وہ فیروز پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ حصول تعلیم کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور صحافت و ادب کا پیشہ اپنایا۔ 1914ء میں انھوں نے لاہور سے ماہنامہ "ترجمان" نکالا۔

تیرتھ رام نے اس دور کے تقریباً تمام مشہور انگریزی جاسوسی اور سنسنی خیز پراسرار ناولوں کا ترجمہ اس انداز میں کیا تھا کہ قاری کو پڑھتے وقت کہیں بھی اسے کے ترجمہ ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ ان کے زیادہ تر ناول لاہور کے نرائن دت سہگل اینڈ سنز نے شائع کیے تھے اور ان کی مقبولیت کا یہ علام تھا کہ قارئین کو ان کا بے صبری سے انتظار ہوتا تھا۔ اور ناشر کے پاس ان کے مستقل خریداروں کی ایک فہرست تھی جنھیں ہر مہینے ناول چھپتے ہی بذریقہ ڈاک ارسال کر دیتا تھا۔ تیرتھ رام غالباً اس دور کے واحد ادیب تھے جن کا ناول ہر مہینے رسالے کی طرح قارئین باقاعدگی سے بذریقہ ڈاک ارسال کیا جاتا تھا۔

بعض محققین کے مطابق منشی تیرتھ رام نے تقریباً ڈھائی سو انگریزی ناولوں کا ترجمہ کیا اور بعض محققین کے مطابق ایک سو سے زائد انگریزی ناولوں کا ترجمہ کیا جن میں "گردش آفاق" سب سے زیادہ ضخیم اور مقبول ناول تھا جو چار جلدوں پر مشتمل تھا۔ منشی تیرتھ رام اپنے طرز کے مغربی ناولوں کے بہت اچھے طالب علم تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ صرف ایک طرز کے ناولوں پر خود کو محدود رکھتے ہوں۔ بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ ان کے یہاں بدلتے ہوئے مغربی جاسوسی ناولوں کے تراجم اور پرتو نظر آتے ہیں۔ انھوں نھے انیسویں صدی عیسوی کے اواخر سے لے کر بیسویں صدی عیسوی کے تقریباً وسط تک ہر اہم مغربی جاسوسی سنسنی خیز ناول نگار کے تراجم سے اردو کا مالا مال کر دیا۔[3]

تصنیفاتترميم

ناولترميم

  1. عشق اور موت ،لاہور، فرئنٹیر بُک ڈپو، (ناول) مترجم
  2. سنہری ناگن ،لاہور، فرئنٹیر بُک ڈپو، (ناول) مترجم
  3. پُر اسرار مکان ،لاہور، فرئنٹیر بُک ڈپو،ت ن، 115 ص (ناول) مترجم
  4. ڈاکٹر فومانچو کا انتقام ،جموں،پریم پرنٹنگ پریس، 1944ء (ناول) مترجم
  5. بُلبلِ اسیر ،لاہور،آزاد بک ڈپو، س ن ص 120 (ناول) مترجم
  6. تاجِ شاہی حُسن کے قدموں میں ،لاہور، عالمگر بُک ڈپو، 1940ء ص 200 (ناول)
  7. آرستیں لوپن جاسوس ،لاہور، فرنٹیر بُک ڈپو، (ناول) مترجم
  8. چراغ تلے اندھیرا ناول
  9. گناہ کی راہ ناول
  10. مکافاتِ عمل ناول
  11. آندھی ناول
  12. مغرب کی حسین اور گنہگارعورتیں ،لاہور، فرنٹئر بک ڈپو، س ن، ص 114، (ناول) مترجم

افسانےترميم

  1. دیسی ،لاہور،رام دتہ مل اینڈ سنز،ت ن، 127 ص (14 افسانے) مترجم
  2. پھول اور کلیاں ،لاہور،نرائن دت سہگل اینڈ سنز،بار چہارم،1945ء، 176 ص (24 افسانے) مترجم
  3. شمع و پروانہ ،لاہور، آزاد بُک ڈپو، 1945ء ص 164 (15 افسانے) مترجم
  4. جلا وطن اور دیگر افسانے ،لاہور،جنرل بُک ڈپو،ت ن، 184 ص (12 افسانے)
  5. رنگین افسانے ،لاہور، ادارہ اشاعت اُردو، س ن ص 112 (13 افسانوی تراجم)

دیگرترميم

  1. نظارہ پرستان انیسویں جلد ،دہلی،لال برادرس،1925ء، ص مترجم
  2. خونی چراغ ،لاہور،لال برادرس،، ص مترجم
  3. فسانہ لندن سترہویں جلد ،لاہور،لال برادرس،1923ء، ص 2076- 1873
  4. 420 عورتیں
  5. جلا وطن
  6. آپ بیتیاں
  7. اس پار
  8. قفسِ زریں
  9. آزادی
  10. انصاف
  11. پہلا ہیرا
  12. انمول ہیرا
  13. ڈاکٹر نکولا
  14. شاہی خزانہ
  15. آتشی کتا
  16. مصری جادو گھر
  17. مقدس جوتا
  18. کرنی کا پھل
  19. لعل مقدس
  20. نازک کٹار
  21. بحرِ فنا
  22. نقلی نواب
  23. للتا
  24. قسمت کا شکار
  25. ستم ہوشربا
  26. تلاش اکسیر
  27. مہادیو گوبند راناڈے اور اُسکی زندگی کے سبق (1909ء-)
  28. سیاہ کارانِ اعظم ،لاہور، فرنٹیئر بُک ڈپو۔[4]
  • ناول(سنہری بچھو/مصنف سیکس روہمر/ترجمہ)

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

بیرونی روابطترميم