حسیدیت جسے حسیدی یہودیت بھی کہا جاتا ہے، یہودیوں کا ایک مذہبی گروہ ہے۔ 18ویں صدی میں اس کا آغاز جدید یوکرائن میں 18ویں صدی میں ہوا اور تیزی سے مشرقی یورپ میں پھیل گیا۔ آج اس کے زیادہ تر پیروکار ریاست ہائے متحدہ امریکا، اسرائیل اور برطانیہ میں آباد ہیں۔ اسرائیل بن اِلیعزر ‘بعل شیم توو‘ کو اس کا بانی مانا جاتا ہے اور ان کے شاگردوں کے اسے پروان چڑھایا اور اس کی تبلیغ کی۔ آج حسیدی انتہائی بنیاد پرست یہودیت کا ایک ذیلی فرقہ ہے اور اسے مذہبی بنیاد پرستی اور معاشرتی طور پر الگ تھلگ رہنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ اس فرقے کے پیروکار مذہبی اعتبار سے انتہائی قدامت پرست ہیں۔ مشرقی یورپ کی روایات اور رسومات اور اس تحریک کے اپنے اصولوں کے اشتراک سے ان کے مخصوص لباس اور یِدش زبان کے استعمال ان تک محدود اور ان کی علامات بن کر رہ گئے ہیں۔

حسیدی عقائد کا زیادہ تر دارومدار لوریائی قبالہ پر ہے اور کسی حد تک اسے مقبول کرنے میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔ تعلیمات کی بنیاد یہ ہے کہ خدا کائنات سے الگ نہیں ہے، مذہبی رسومات کو بہت زیادہ جذباتی اہمیت دی جاتی ہے اور ان کو پوری عقیدت و احترام سے سر انجام دیا جاتا ہے۔ حسیدیت کو مختلف فرقوں میں بانٹا گیا ہے اور ہر فرقے کا اپنا موروثی رہنما یا ربی ہوتا ہے۔ ان فرقوں کو خاندان کا نام دیا جاتا ہے۔ ربی کے ساتھ انتہائی عقیدت اور وابستگی اس کی خاصیت سمجھی جاتی ہے اور اس کے بغیر خدا کا قرب ممکن نہیں۔ ہر فرقے یا خاندان کے بنیادی عقائد ایک جیسے ہوتے ہیں مگر ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہتے ہیں اور ان کی اپنی رسوم و رواج ہوتے ہیں۔ فرقے سے وابستگی سماجی ہونے کے علاوہ مذہبی اہمیت بھی رکھتی ہے۔ کئی بڑے خاندان بھی ہیں جن کے اراکین کی تعداد ہزاروں میں ہے جبکہ درجنوں چھوٹے خاندان بھی ہیں۔ بچوں اور بالغوں کو ملا کر حسیدیوں کی کل تعداد چار لاکھ سے زیادہ مانی جاتی ہے۔

حوالہ جات

ترمیم
  • Rachel Elior (2006)۔ The Mystical Origins of Hasidism۔ Littman Library of Jewish Civilization۔ ISBN 978-1-904113-04-1 
  • Martin Buber (جولائی 23, 1991) [1947]۔ Tales of the Hasidim۔ translated by Olga Marx; foreword by Chaim Potok (Paperback: 2 volumes in 1 ایڈیشن)۔ New York: Schocken Books۔ ISBN 0-8052-0995-6۔ LCCN 90052921 
  • Joseph Berger (2014)۔ The Pious Ones: The World of Hasidim and Their Battle with America۔ Harper Perennial۔ ISBN 978-0-06-212334-3