حاضرین کی پیمائش اس بات کی گنتی ہے کہ حاضرین میں کتنے لوگ شامل ہیں۔ یہ عمومًا ریڈیو سامعین کی تعداد اور ٹیلی ویژن ناظرین کی تعداد کا مطالعہ ہے۔ اخبارات اور رسائل کے معاملے میں قارئین کی تعداد دیکھی جاتی ہے۔ انٹرنیٹ کے اس دور میں ویب سائٹوں پر پر ویب ٹریفک دیکھی جاتی ہے۔ کبھی کبھی یہ اصطلاح ان روزمرہ کی کارروائیوں کے لیے مستعمل ہے کو نشریات سے وابستہ اشخاص اور مشتہروں کے لیے معاون ہیں۔ یہ ان دونوں زمرے کے لوگوں کو یہ طے کرنے میں مدد کرتے ہیں کون سن رہا ہے نہ صرف یہ کہ کتنے لوگ سن رہے ہیں۔ دنیا کے کچھ حصوں میں اس کے نتیجے سے ماخوذ اعداد کو حاضرین کی حصے داری کہا جاتا ہے، جب کہ دیگر جگہوں پر وسیع تر اصطلاح بازار کی حصے داری مستعمل ہے۔ اس وسیع تر معنے کو حاضرین کی تحقیق بھی کہا جاتا ہے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  • Lotz, Amanda D. (2007) "The Television Will Be Revolutionized". New York. NY: New York University Press. p. 196-197
  • Lotz, Amanda D. (2007) "The Television Will Be Revolutionized". New York. NY: New York University Press. p. 199