حافظ ابو بكر البزار

حافظ ابو بكر البزار مسند البزار کے مصنف ہیں۔

حافظ ابو بكر البزار
معلومات شخصیت
پیدائش 820ء کی دہائی  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 905 (84–85 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رملہ، اسرائیل  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ سلیمان ابن احمد ابن الطبرانی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص سلیمان ابن احمد ابن الطبرانی  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ الٰہیات دان،  حافظ قرآن،  محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل علم حدیث  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں مسند بزار  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

مکمل نامترميم

پورا نام احمد بن عمرو بن عبد الخالق ابو بكر البزار ہے

حالات زندگیترميم

حافظ الحديث۔بصرہ کے باشندہ تھے رملہ میں سکونت اختیار کی اور وہیں وفات پائی حافظ حدیث نہایت راست گو اور ثقہ تھے ان کو اپنے حافظہ پر بھروسا تھا اور الفلاس بندار اور دوسرے لوگوں سے حدیث روایت کی اور ان سے عبدالباقی بن قانع، ابو بکر الختلی اور عبد اللہ بن الحسن وغیرہ نے روایت کی آخر عمر میں اپنے علم کو پھیلاتے ہوئے اصفہان شام اور اطراف شام کا سفر کیا

تصنیفترميم

تصانیف میں المسند الکبیر المعلل جس کا نام انہوں نے البحر الزخار رکھا اس میں وہ صحیح اور غیر صحیح احادیث کی وضاحت کرتے ہیں

وفاتترميم

رملہ میں 292ھ مین وفات پائی۔[3]

حوالہ جاتترميم

  1. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/99710 — بنام: Abū Bakr Aḥmad ibn ʻAmr Bazzār
  2. سی ای آر ایل - آئی ڈی: https://data.cerl.org/thesaurus/cnp00292851 — بنام: Aḥmad Ibn-ʿAmr al- Bazzār
  3. میزان الاعتدال، جلد اول، صفحہ 188مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور