حروفیہ ایک صوفی فرقہ ہے جس کی ابتدا آٹھویں صدی ہجری/چودہویں صدی عیسوی میں ایران میں ہوئی۔ اس فرقے کا بانی فضل اللہ استرابادی تھا۔

قیام

ترمیم

فضل اللہ 740ھ/1340ء میں استراباد میں پیدا ہوا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کا آغاز ایک صوفی کی حیثیت سے کیا اور وہ حرام غذا کھانے سے حد درجہ احتیاط و اجتناب کرتا تھا۔ اس معاملے میں وه اتنا محتاط تھا کہ لوگ اسے ”حلال خور“ کہتے تھے۔ اس کا میلان شروع ہی سے تصوف کے زاہدانہ اعمال کی طرف تھا۔ نوجوانی میں اسے الہامی خواب دکھائی دینے لگے۔[1]

ابتدا میں اس کے مریدین کی تعداد چند نفوس پر مشتمل تھی لیکن جب اس نے اصفہان میں سکونت اختیار کی تو اس کے مریدین کی تعداد بڑھنے لگی۔ کئی دوسرے ملکوں کے لوگ بھی فضل اللہ کی تعبیر رویا میں قابلیت اور اس کے مریدین کی سادگی اور دیانتدارانہ زندگی سے متاثر ہوکر اس کے حلقہ ارادت میں کشاں کشاں آنے لگے۔

چالیس سال کی عمر میں فضل اللہ تبریز میں اقامت گزیں تھا تو اسے ایک نیا تجربہ ہوا۔ اسے حروف خفیہ کے معنی اور نبوت کی اہمیت کا علم حاصل ہو گیا۔ تین دن تین رات اس پر وجدانی کیفیت طاری رہی۔ اس کے بعد وہ ایک نئی مذہبی تحریک کا بانی بن گیا جس کو حروفی کہتے ہیں۔

اس نے اپنی تصنیف جاوداں نامہ کبیر میں حکمرانوں اور بادشاہوں کو اپنے عقیدے کا پیرو بننے کی دعوت دی۔ اس نے تیمور لنگ کے عتاب سے بچنے کے لیے اس کے بیٹے میران شاہ کے پاس پناہ لی، لیکن میران شاہ نے اس کی مدد کرنے کی بجائے اسے گرفتار کرا کے ان کے پخوان قریب ضلع خبق میں قید کر دیا اور یہیں پر 796ھ/1394ء میں اسے قتل کر دیا گیا۔

جس جگہ فضل قتل ہوا کچھ عرصہ تک ہی مقام اس کے پیروؤں کا قبلہ (مکہ) بن گیا اور میران شاہ اس نئے مذہب کا دجال کہلانے لگا۔

فضل اللہ کا پہلا خلیفہ اس کا مرید علی الاعلىٰ بنا جو حروفی مذہب سے متعلق حروفی عقیدے کی اشاعت کی اناطولی میں حروفی عقائد دیگر عقائد کے پہلو بہ پہلو بکتاشیوں کی عجیب و غریب برادری میں باقی رہے۔

یہ فرقہ قلیل مدت تک ایک منظم تحریک کی شکل میں قائم رہا۔ بعد میں اس فرقے کو کئی مذہبی افتراقات کا سامنا کرنا پڑا۔

معتقدات

ترمیم

اس فرقے میں مذہب کی باطنی خصوصیت پر زور دیا گیا ہے۔ نبوت کے بارے میں حروفیوں کا نظریہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو واقعی خاتم النبیین کہہ سکتے ہیں، کیونکہ آپ پر نبوت ختم ہو جاتی ہے لیکن اس کے بعد ایک نیا دور جو دور نبوت سے برتر ہے شروع ہوتا ہے یعنی دورِ ولایت اور یہ بھی فضل اللہ میں خدائے ظہور والے دور سے مرتبے میں پیچھے رہ گیا۔

حروفیوں کے نزدیک کائنات قدیم ہے، کیونک تخلیق کا عمل دائمی ہے۔ خدا کی صفات ذات خداوندی کی مترادف ہیں جو خود ایک نا قابل رسائی پوشیدہ خزانہ ہے۔ ظہور خداوندی ادوار میں حرکت کرتا ہے اور ہر دور میں گذشتہ ادوار کے واقعات اور اشخاص دوبارہ ظاہر ہوتے ہیں۔

ان کے نزدیک انسان سے مراد قدرتی طور پر کوئی بالخصوص پاک اور مقدس انسان ”فضل اللہ“ ہے۔ تمام دنیا خود خدا ہے آدم روح ہے اور سورج چہرہ۔ حروفیوں نے قرآن مجید کی اپنی باطنی تفسیر کر لی۔ نیز ہر ذرہ ایک زبان ہے جو ایک زبان ہے جو بولتی ہے۔

ابتدا میں حروفیوں کی ایک الگ تنظیم تھی اور ان کی اپنی رسوم اور نمازیں تھیں۔ مثلا اذان میں ایسے کلمات شامل تھے :"اشهدان لا اله الا۔ ف۔ء۔ہ۔ میں گوائی دیتا ہوں کہ ف۔ء۔ہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ "اشهدان آدم خليفة الله“، میں گواہی دیتا ہوں کہ آدم اللہ کا نائب ہے۔

فضل اللہ کے قتل کی جگہ کا حج ذو القعدہ کے مہینے میں کیا جاتا تھا۔ مقتل کے دروازے کا اٹھائیس مرتبہ طواف کرنے کے بعد حرونی دنیا کے مشرق و مغرب کے چالیس عارفانِ حق کے نام لیتے ہیں۔ دریا کے مجری میں اتر کر تین مرتبہ پانی لیتے ہیں اور پھر انھیں آگ میں ڈال دیتے ہیں جو شیطان کا منبع ہے۔ یہ عمل کرتے وقت ان کا منہ میران شاہ کے قلعے کی طرف ہوتا ہے اور زبان سے ’ملعون و بدکار‘ کے الفاظ ادا کرتے ہیں۔[2]

حوالہ جات

ترمیم
  1. اسلامی انسائیکلوپیڈیا/1165
  2. اسلامی انسائیکلوپیڈیا/773-774