حکیم مقنع خراسانی علم کیمیا میں ماہر تھا جس کا استعمال کر کے ایک مصنوعی چاند بنایا اور خدائی کا دعویٰ کیا۔

حکیم مقنع خراسانی
معلومات شخصیت
پیدائش 8ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مرو   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 783ء (81–82 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت امویہ
دولت عباسیہ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فارسی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پیدائش

ترمیم

یہ شخص جس کا نام حکیم مقنع تھا وہ خراسان کے ایک معمولی گاؤں میں ایک دھوبی کے گھر پیدا ہوا۔

حکیم مقنع کے نام میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض لوگ ہشام یا ہاشم اور بعض ابن مقنع بھی لکھتے ہیں۔ ابن مقنع کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ کراہت کی حد تک بد صورت ہونے کے سبب نقاب اوڑھ کر رہتا تھا۔

ابتدائی حالات

ترمیم

خراسان کے ایک گاؤں میں دھوبی کے پیدا ہونے کے سبب کوئی پہچان نہیں تھی۔ بدشکل ایسا تھا لوگ کراہت محسوس کرتے تھے جس کی وجہ سے لوگ اس کو قریب نہیں کرتے تھے۔ لوگوں کی اس نفرت کے سبب اس کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی کہ اسے لوگوں پر حکمرانی کرنی ہے۔ چنانچہ اس نے علم کیمیا اور دیگر علوم و فنون سیکھے اور کئی سال تک اپنے گاؤں سے غائب رہا اور پھر نئے انداز میں واپس آیا اس نے لوگوں کے سامنے خدائی کا دعویٰ کیا اور معجزے کے طور ایک چاند بنا کر طلوع کیا۔

نخشب کا چاند

ترمیم

حکیم مقنع نے لوگوں کو اپنی خدائی کا یقین دلانے کے لیے جو چاند بنایا تھا وہ سیماب اور پارے کی اجزائے ترکیبی اور مقنع کے فن کا کمال تھا لیکن لوگ اسے خدا سمجھ بیٹھے۔ وہ چاند نخشب کے کنویں سے طلوع ہوتا اور تقریباً پندرہ میل کی مسافت کو روشن کرتا تھا۔ وہ چاند مقنع کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہو گیا تھا

غروب ماہتاب

ترمیم

جب خلیفہ مہدی کو حکیم مقنع کی فریب کاری اور فتنے کے متعلق خبر ہوئی تو اس نے کئی فوجی دستے اس کا قلع قمع کرنے کے لیے روانہ کیا اور آخرکار وہ مارا گیا اور اس کی موت کے ساتھ ہی نخشب کے کنویں سے طلوع ہونے والا چاند غروب ہو گیا۔

معتقدین

ترمیم

حکیم مقنع کی موت کے متعلق بعض مختلف روایتیں ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان قلعے میں داخل ہو گئے اور اس نے مقنع کو قتل کیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس نے پہلے اپنے تمام رفقا اور رشتہ داروں کو زہر پلایا اور پھر خود بھی زہر پی لیا۔ ایک روایت یہ ہے کہ اس نے ایک گڑھے میں آگ جلوائی اور اور اپنے معتقدین کو جمع کر کے کہا کہ جو لوگ میرے ساتھ فردوس بریں میں رہنا چاہتے ہیں وہ اس آگ میں میرے ساتھ کود جائیں۔ چنانچہ بہت لوگ اس آگ میں کود گئے ان میں حکیم مقنع بھی تھا۔ اور جو لوگ پہلی لڑائیوں میں اس سے الگ ہو گئے تھے وہ افسوس کرتے رہے جیسے کہ سچ میں وہ آسمان پر جنت میں چلا گیا ہو۔[1]

حوالہ جات

ترمیم
  1. تاریخ ابن خلکان، الفرق، تاریخ کامل۔