"لسانی ثنویت" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
==انگریزی==
==عربی==
جیسا کہ ابتداء میں مذکور ہوا کہ بنیادی طور پر لسانی ثنویت دنیا کی ہر زبان میں پا ئی جاتی ہے کیونکہ اس کی اصل ابتداء گھریلو (مادری) زبان کی بے تکلفی اور آزاد بیانی میں ہوتی ہے اور معاشرے میں اقتصادی اور تعلیمی لحاظ سے پائے جانے والے مختلف طبقات اس لسانی ثنویت میں اضافے اور اس کو نمایاں کرنے کا سبب بنا کرتے ہیں۔ آج کل بولی جانے والی عربی زبان میں بھی یہ صورتحال دیکھنے میں آتی ہے؛ وہ عربی جو روایتی کہلائی جاسکتی ہے وہ رسمی مقاصد جیسے لکھائی پڑھائی اور دفاتر وغیرہ میں استعمال کی جاتی ہے جبکہ عام عربی بول چال وہ ہے جو گھر و گلی محلے میں استعمال کی جاتی ہے۔ یہاں ایک قابل غور بات یہ ہے کہ اس اعل{{ا}}ی یا روایتی عربی کو قرآن کی عربی سے الگ سمجھا جانا چاہیے کیونکہ آج کل کی رسمی عربی بھی قرآن کی عربی سے خاصی مختلف ہے۔ عربی میں اس لسانی ثنویت کے بارے میں متعدد نظریات پیش کئے گئے ہیں اور اسی طرح اس کی ابتداء کے زمانے کے بارے میں؛ ان میں سب سے اہم اور منطقی نظریے کے مطابق عربی میں آج وہ لہجے جن کو لسانی ثنویت میں شمار کیا جاتا ہے فی الحقیقت الگ الگ متعدد زبانیں تھیں جو اسلام کی جغرافیائی حدود پھیلنے کے وقت اس میں سما گئیں اور قرآن و مسلمان ہوجانے والوں کی عبادات کی زبان ہونے کے ناطے ان کی زبان عربی میں بدل گئی۔ ان میں متعدد دور دراز کے علاقے جو مرکز اسلام سے دور تھے وہ اپنے اپنے اجداد کے تاریخی لہجے اور زبانیں بولا کرتے تھے جن کو بعد میں گو کہ عربی کی یکسانیتیکسانی میں شامل کر لیا گیا لیکن بہرحال لسانی ثنویت کی کیفیت وجود میں آئی۔
==ہندی==