"شیخ محمد عبد اللہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار: اضافہ زمرہ جات +ترتیب+صفائی (14.9 core): + زمرہ:جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ارکان
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
م (خودکار: اضافہ زمرہ جات +ترتیب+صفائی (14.9 core): + زمرہ:جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ارکان)
|birth_date = 5 دسمبر 1905<ref name=EB>Hoiberg, Dale H. (2010) p 22-23</ref>
|birth_place = [[سورا]]، [[ریاست جموں و کشمیر]] (موجودہ [[جموں و کشمیر]]، [[بھارت]])
|death_date = 8 ستمبر 1982 (عمر 76 سال)<ref name=EB />
|death_place = [[سری نگر]]، [[جموں و کشمیر]]، [[بھارت]]
|spouse = [[بیگم اکبر جہاں عبد اللہ]]
|children = [[فاروق عبداللہ]]
|alma_mater = [[اسلامیہ کالج لاہور]]<br />[[علی گڑھ مسلم یونیورسٹی]]<ref name="Tikoo2012">{{cite book|author=Tej K. Tikoo|title=Kashmir: Its Aborigines and Their Exodus|url=https://books.google.com/books?id=kRFvWyqGNzEC&pg=PA185|accessdate=26 فروری 2013|date=19 جولائی 2012|publisher=Lancer Publishers|isbn=978-1-935501-34-3|pages=185–}}</ref>
|term_start = 25 فروری 1975
|term_end = 26 مارچ 1977
|religion = [[اسلام]]
}}
'''شیخ محمد عبد اللہ''' (5 دسمبر 1905 تا 8 ستمبر 1982) ایک کشمیری سیاست دان تھے جنہوں نے جموں اور کشمیر کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کیا۔ خود کو "شیر کشمیر" کا لقب دینے والے، عبد اللہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے بانی رہنماؤں میں سے ایک اور جموں و کشمیر کے چوتھے اہم وزیراعلی تھے۔ انہوں نے مہاراجہ ہری سنگھ کی حکمرانی کی مخالفت کی اور کشمیر کے حق خود مختاری پر زور دیا۔
 
'''شیخ محمد عبد اللہ''' (5 دسمبر 1905 تا 8 ستمبر 1982) ایک کشمیری سیاست دان تھے جنہوں نے جموں اور کشمیر کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کیا۔ خود کو "شیر کشمیر" کا لقب دینے والے، عبد اللہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے بانی رہنماؤں میں سے ایک اور جموں و کشمیر کے چوتھے اہم وزیراعلی تھے۔ انہوں نے مہاراجہ ہری سنگھ کی حکمرانی کی مخالفت کی اور کشمیر کے حق خود مختاری پر زور دیا۔
 
انہوں نے 1947 ء میں بھارت کے قبضے کے بعد جموں و کشمیر کے دوسرے وزیر اعظم کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دیں اور بعد میں انہیں جیل ڈالا اور جلاوطن کیا گیا۔ انہیں 8 اگست 1953 کو وزیر اعظم کی حیثیت سے مسترد کر دیا گیا اور بخشی غلام محمد کو نئے وزیر اعظم کے طور پر تعینات کیا گیا۔ 1965 ء میں 'صدر ریاست' اور 'وزیر اعظم' کی بجائے 'گورنر' اور 'وزیر اعلیٰ' کی اصلاحات استعمال کی جانے لگیں۔
شیخ عبد اللہ نے 1974کے معاہدے کے تحت دوبارہ ریاست کا وزیر اعلیٰ بن کر ریکارڈ قائم کر دیا اور 8 ستمبر 1982 میں اپنی موت تک اسی عہدے پر فائز رہے۔
 
شیخ عبد اللہ سرینگر کے مضافاتی گاؤں سورا میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش اپنے والد شیخ محمد ابراہیم کی موت کے گیارہ دن بعد ہوئی۔ ان کے والد ایک درمیانی طبقے کے کارخانہ دار اور کشمیری شالوں کے تاجر تھے۔ وہ راگھو رام نامی ایک کشمیری پنڈت کی نسل سے تھے جس نے 1722ء میں صوفی راشد بلخی کے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔ عبد اللہ کی خود کی لکھی ہوئی سوانح حیات آتش چنار کے مطابق قبول اسلام کے بعد انہوں نے اپنا نام شیخ محمد عبد اللہ رکھ لیا۔
 
شیخ عبد اللہ کے مطابق، ان کے سوتیلے بھائی نے ان کی ماں کے ساتھ برا سلوک کیا اور ان کا ابتدائی بچپن انتہائی غربت میں گزرا۔ ان کی ماں یہ جانتی تھی کہ اس کے بچوں کو مناسب تعلیم حاصل کرنا چاہئے اور اس طرح وہ بچپن میں ہی ایک روایتی اسکول یا مکتب میں داخل ہو چکے تھے جہاں انہوں نے قرآن کریم کی تلاوت اور کچھ بنیادی فارسی نسخے جیسے گلستان سعدی، پدشناما وغیرہ پڑھے۔ پھر 1911ء میں انہیں ایک پرائمری اسکول میں داخل کیا گیا جہاں انہوں نے تقریباً دو سال تک تعلیم حاصل کی۔
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات|2}}
 
{{زمرہ کومنز}}
{{S-start}}
[[زمرہ:1905ء کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:1982ء کی وفیات]]
[[زمرہ:برطانوی ہند کے قیدی اور زیر حراست افراد]]
[[زمرہ:بھارت کی دستور ساز اسمبلی کے ارکان]]
[[زمرہ:بھارت کے قیدی اور زیر حراست افراد]]
[[زمرہ:بھارتی مسلم شخصیات]]
[[زمرہ:کشمیری شخصیات]]
[[زمرہ:عبد اللہ سیاسی خاندان]]
[[زمرہ:جامعہ علی گڑھ کے سابقہ طالب علم]]
[[زمرہ:جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ارکان]]
[[زمرہ:ساہتیہ اکیڈمی اعزاز یافتگان برائے اردو ادب]]
[[زمرہ:عبد اللہ سیاسی خاندان]]
[[زمرہ:برطانوی ہند کے قیدی اور زیر حراست افراد]]
[[زمرہ:کشمیری شخصیات]]
[[زمرہ:بھارت کے قیدی اور زیر حراست افراد]]
[[زمرہ:بھارت کی دستور ساز اسمبلی کے ارکان]]