"فقیر اللہ مدراسی" کے نسخوں کے درمیان فرق

738 بائٹ کا اضافہ ،  1 مہینہ پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
== کسب علم ==
ابتدائی تعلیم اپنے بڑے بھائی مولانا محمد سے حاصل کی جو [[سید نذیر حسین دہلوی]] کے تلمیذ تھے۔ اس کے بعد شیخ حسین عرب یمنی (م 1327ھ) سے مستفید ہوئے۔ [[عبدالمنان وزیر آبادی|عبد المنان وزیر آبادی]] سے بھی تعلیم حاصل کی۔ [[وزیر آباد]] سے [[امرتسر]] کا قصد کیا۔ امرتسر کے مدرسہ غزنویہ کا اس وقت شہرہ تھا اور مسند تدریس حدیث پر سید عبد الجبار براجمان تھے۔ فقیر اللہ نے ان سے استفادہ کیا۔ امرتسر سے فراغت کے بعد دہلی گئے اور سید نذیر حسین سے کتب پڑھیں اور سند و اجازہ سے حاصل کی۔ قیام دہلی کے زمانے میں محمد بشیر سہسوانی ست بھی اکتساب علم کیا اور محمد اسحاق منطقی رام پور سے منطق و فلسفہ کی انتہائی کتابیں پڑھیں۔ علوم متد اولہ کی تحصیل سے فراغت پائی تو فقیر اللہ مدراسی کی خدمات مطبع مجتبائی (دہلی) کے مالکان نے کتب حدیث کی تصحیح کے لیے حاصل کرلیں۔ یہ اس زمانے میں نہایت اہم کام تھا جو فقیر اللہ مدراسی کے سپرد کیا گیا۔ مدراسی کا شمار ماہرین حدیث میں ہوتا تھا۔
== تلامذہ ==
مدراسی سے ان گنت شخصیات نے حصول علم کیا۔ ان کے شاگردوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں۔ تاہم ان کے تلامذہ میں سے اپنے علاقے میں جن علما نے زیادہ شہرت پائی ان میں شامل ہیں:
*مولانا سید اسماعیل، بانی جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
*مولانا فضل اللہ مدراسی، ناظم اول جامعہ دار السلام عمر آباد، مدراس
*مولانا محمد عثمان، خطیب بنگلور و سکندر آباد
*مولانا بشیر احمد سلیم
*مولانا عبد العلیم
*مولانا عبد القاد دکھنی کوٹی
 
==حوالہ جات==