"شاہ عبدالقادر" کے نسخوں کے درمیان فرق

4,596 بائٹ کا ازالہ ،  1 مہینہ پہلے
(شاہ عبد القادر دہلوی سے رجوع مکرر)
(ٹیگ: نیا رجوع مکرر)
 
#رجوع_مکرر [[شاہ عبد القادر دہلوی]]
'''امام المفسرين حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلوی ا'''مام المفسرین حضرت شاہ عبدالقادر امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے چھوٹے بیٹے تھے۔ حضرت شاہ عبدالقادر کی پیدائش احمد شاہ کے عہد میں 1167ھ بمطابق1753ء میں ہو‏ئی۔حضرت شاہ عبدالقادر نے علوم و فنون کی تکمیل بڑے بھائی
 
حضرت شاہ عبدالعزيز دہلوی سے کی- تحصیل علوم کے بعد حضرت شاہ عبدالقادر نے مسجد اکبر آبادی م‏يں تعلیم و تدريس شروع کی۔جبکہ آپ کے دوسرے بھائی مدرسہ کلاں میں تعلیم و تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔مشہور نقشبندی بزرگ حضرت شاہ فضل رحمان گنج مراد آبادی کے بقول حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کےصاحبزادوں میں سے '''حضرت شاہ عبدالقادر صاحب نسبت بزرگ تھے۔آپ انتہائی خلوت پسند تھے۔آپ نے چالیس سال مسجد اکبر آبادی میں اعتکاف کی حالت میں قرآن کامشہور عالم ترجمہ موضح القران تحریر فرمایا۔ سرسید احمد خاں آثار الصناوید میں لکھتے ہیں کہ آپ کا دہلی والوں کو اس وقت پتہ چلا جب آپکا جنازہ مسجد سے قبرستان لے جایا جا رہا تھا۔آپ کی زاہدانہ زندگی بارے سرسید نے لکھا ہے کہ آپ کے بڑے بھائی آپ کو سال بھر میں دو جوڑے کپڑے اور دو وقت کا کھانا بھیجا کرتے تھے۔حضرت شاہ عبدالقادر کو کشف کی بڑی قوت تھی حضرت شاہ عبدالعزیز رمضان شروع ہونے پر معلوم کرایا کرتے تھے کہ پہلی تراویح میں شاہ عبدالقادر نے ایک پارہ پڑھا یا سوا پارہ پڑھا۔ اگر ایک پارہ پڑھا تو شاہ عبدالعزیز سمجھ جاتے کہ رمضان تیس کا ہوگا اور سوا پارہ پڑھا تو رمضان انتیس کا ہوگا ساری عمر اس کے خلاف کبھی نہ ہوا۔'''
 
حضرت شاہ عبدالقادردہلوی کا ترجمہ کردہ موضح القرآن روز اول غالباً 1790ء کے لگ بھگ سے ہی مسلمانان برصغیر میں نہایت مقبول و مسلّم بلکہ الہامی ترجمہ کے نام سے مشہور رہا ہے۔ ہر دور کے اہل بصیرت نے اسے الہامی ترجمہ قرار دیا۔ یہ ہندوستان میں قران مجید کا پہلا اردو ترجمہ مانا جاتا ہے اور تمام تراجم کیلیے بمنزلہ اساس ہے، اس ترجمہ پر شاہ صاحب کے چالیس برس خرچ ہوئے، شاہ عبدالقادر کا ترجمہ قرآن موضح القرآن قرآن پاک کے مابعد اردو ترجموں کے لیے مینارہ نور ثابت ہوا بقول مولانا ڈپٹی نذیر احمد مرحوم اردو زبان کے جتنے بھی تراجم ہیں سب کے سب شاہ عبدالقادر کے ترجمے کے مترجم ہیں۔ موضح القرآن کے نام سے یہ پہلا اردو میں بامحاورہ ترجمہ قران تھا۔ مولانا عبدالحئی لکھنوی لکھتے ہیں قرآن پاک کے ترجمے سے پہلے شاہ صاحب نے ایک خواب دیکھا کہ ان پر قرآن حکیم نازل ہوا ہے۔ انھوں نے اپنے برادر بزرگ، شاہ عبدالعزیزؒ سے اس کا ذکر کیا۔ شاہ عبدالعزیزؒ نے کہا کہ بے شک یہ خواب صحیح ہے، وحی کا سلسلہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسکے بعد منقطع ہوچکا ہے لیکن اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو قرآن عزیز کی خدمت کی ایسی توفیق عطا فرمائے گا جو اس سے پہلے کسی کے حصے میں نہیں آئی۔ چنانچہ ان کے خواب کی تعبیر ترجمہ قرآن موضح القرآن کی صورت میں جلوہ گر ہوئی۔
 
شاہ عبد القادر کی تریسٹھ سال کی عمر میں19 رجب [[1230ھ]] بمطابق [[1814ء]] کو دہلی میں وفات ہوئی۔ اپنے جد امجد شاہ عبد الرحیم کے پاس ہی دفن ہوئے
 
[[زمرہ:مترجمین قرآن]]