"رافع بن مالک" کے نسخوں کے درمیان فرق

1,287 بائٹ کا اضافہ ،  4 مہینے پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
رافع نام، ابو مالک وابو رفاعہ کنیت، قبیلہ خزرج سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے،رافع بن مالک بن العجلان بن عمرو بن عامر بن زریق بن عامر بن عبد حارثہ بن مالک بن غضب بن جشم بن خزرج۔
== اسلام ==
انصار مدینہ میں سب سے پہلے جس گروہ نے آنحضرت کی قیام گاہ پر حاضر ہو کر اسلام قبول کیا ان میں سے سے پہلے شخص حضرت رافع تھے۔ آپ بنو زریق کے نقیب مقرر کیے گئے۔ اور اشاعت اسلام میں بڑی سرگرمی دکھائی۔ بنی زریق کی مسجد میں سب سے پہلے قرآن پاک آپ نے پڑھایا۔ جو سورۃ نازل ہوتی آپ فوراً لکھ کر لوگوں کو سناتے۔ [[غزوہ احد]] میں شہید ہوئے۔ہوئے۔قبیلۂ خزرج کے ۶ آدمی جن میں یہ دونوں آدمی بھی تھے،عمرہ کی غرض سے مکہ گئے تھے، آنحضرتﷺ ان کے قیام گاہ پر تشریف لائے اوراسلام کی تبلیغ کی تو سب سے پہلے اس دعوت کو انہی دونوں نے لبیک کہا۔
یہ اسد الغابہ کی روایت ہے طبقات میں ہے کہ صرف دو شخص گئے تھے ان کو آنحضرتﷺ کی خبر ملی تو خدمت میں حاضر ہوکر مذہب اسلام اختیار کرنے کا شرف حاصل کیا۔
ان دونوں بزرگوں میں بھی جیسا کہ سعد بن عبدالحمید کا قول ہے ،حضرت رافع ؓ نے پہلے بیعت کی تھی۔
اسلام قبول کرکے پلٹے تو مدینہ میں نہایت سرگرمی سے اشاعتِ اسلام کی خدمت انجام دی،مصنف اسد الغابہ لکھتے ہیں:
فلما قدموا المدينة ذكروا لقومهم الإسلام ودعوهم إليه، فشفا فيهم، فلم تبق دار من دور الأنصار إلا وفيها ذكر من رسول الله صلى الله عليه وسلم
== (اسد الغابہ،باب رافع بن مالک بن العجلان:۱/۳۵۲) ==
== غزوات ==
رافع کی اسلامی زندگی کے دوران میں صرف دو لڑائیاں پیش آئیں، بدر اوراحد، بدر میں ان کی شرکت مشکوک ہے،ابن اسحاق نے ان کو اصحاب بدر میں شمار نہیں کیاہے اور موسیٰ بن عقبہ نے امام بن شہاب زہری سے نقل کیا ہے کہ وہ شریک تھے،اس باب میں بہترین حکم خود ان کا قول ہو سکتا ہے، بخاری کی جو عبارت ہے کہ "مجھے یہ خوش نہیں آتا کہ عقبہ کے مقابلہ میں میں بدر میں شریک ہوتا "اس قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شریک بدر نہ تھے۔