مرکزی مینیو کھولیں
منگول حملوں کے موقع پر یوریشیا, 1200ء

خان (Khan) (منگولی: хаан، xaan; ᠬᠠᠭᠠᠨ، qaγan;ترکی: kağan or hakan; آزربائیجانی:xan; عثمانی: han; قدیم ترکی: Old Turkic letter N1.svg Old Turkic letter G1.svg Old Turkic letter Q.svg, kaγan; چینی: 可汗, kèhán گورگوریو : 皆, key; سللا : 干, kan; بائکجی : 瑕, ke; مانچو : ᡥᠠᠨ، فارسی : خان منگولی اور تُرک زبان کا لفظ ہے جس کامطلب ہے بادشاہ ، سب سے بڑا سردار یہ صرف منگول بادشاہوں کے لیے مخصوص تھا۔ لفظ خان، خاقان، خاگان، قاغان، ھان مختلف ادوار میں مختلف تلفظ اور لہجوں سے بھی بولااور استعمال ہُوا ہے ۔ خان کی بادشاہت یا ریاست کو خانیت ، خانات، خاقانیت بولا جاتا تھا۔منگول بادشاہ تموجن کا ٹائٹل چنگیز خان تھا جس کا مطلب ہے آفاقی بادشاہ یا کائناتی شہنشاہ۔ یہ نام دنیا میں اک اپنی ہی تاریخ چھوڑ گیا ہے۔ چنگیز خان نے کُچھ مُغلوں کو ترخان لقب سے بھی نوازا تھا جس کا مطلب ہے سب سے بڑا خان، خانوں کا خان، خانِ خاناں،خانوں کا سردار یہ منگولوں کا سب سے اعلی ترین خطاب تھا۔ لفظ خان سب سے پہلے منگول روران خانات نے استعمال کیا تھا۔ خان کی مونث خاتون ہے اور خان کی بیٹی کو خانم کہا جاتا ہے۔ پندرہویں صدی سے پہلے یہ لفظ وسط ایشیائی ریاستوں میں مشہور تھا۔مگر چنگیز خان کی فتح افغانستان کے بعد اس خطے میں بسنے والے لوگوں نے خاص طور پر پشتونوں نے اس کو اختیار کیا جو آج بھی اُن کے نام کا حصہ ہے۔اس کے علاوہ دیکھا دیکھی ہندوستان کی دوسری قوموں نے بھی خان کا ٹائٹل استعمال کرنا شروع کر دیا۔مُغل دربار کی طرف سے یہ ٹائٹل ریاست کا اعلی ترین ٹائٹل تھا۔

مزید دیکھیےترميم