خلاف اولیٰ : وہ کام ہے جس کی ممانعت میں حدیث نہ ہو اور یہ کام مستحب کے خلاف ہو اس کے ترک پر ثواب ہے اور اس کے فعل پر نہ عذاب ہے نہ ملامت۔

مکروہ تنزیہیترميم

خلاف اولیٰ فعل دائماً کیا جائے یا احیاناً اس میں اور مکروہ تنزیہی میں ہلکا سافرق ہے، مکروہ تنزیہی وہ کام ہے جس کی ممانعت حدیث سے ثابت ہو اور خلاف اولیٰ وہ کام ہے جو مستحب کے خلاف ہو یا مستحب کام کو ترک کرنا خلاف اولیٰ ہے۔

خلاف اولیٰ اور مستحب میں فرقترميم

البحرالرائق میں یہ تصریح ہے کہ مستحب کے ترک سے کراہت لازم نہیں آتی کیونکہ کراہت تنزیہہ کے ثبوت کے لیے خصوصی دلیل ضروری ہے اور اس کی طرف تحریر ابن ھمام میں اشارہ ہے کہ خلاف اولیٰ وہ کام ہے جس میں ممانعت کا صیغہ نہ ہو بہ خلاف مکروہ تنزیہی اور ظاہر یہ ہے کہ خلاف اولیٰ عام ہے پس ہر مکروہ تنزیہی خلاف اولیٰ ہے لیکن ہر خلاف اولیٰ مکروہ تنزیہی بہ خلاف مکروہ تنزیہی نہیں ہے کیونکہ بعض اوقات خلاف اولیٰ مکروہ تنزیہی نہیں ہوتا کیونکہ اس پر خصوصی دلیل نہیں ہوتی جیسے چاشت کی نماز ترک کرنا اور اس سے یہ ظاہر ہو گیا کہ مستحب کو ترک کرنا خلاف اولیٰ کی طرف راجع ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مکروہ تنزیہی ہو کیونکہ مکروہ تنزیہی وہ کام ہے جس کی خصوصیت سے ممانعت ہو کیونکہ کراہت ایک حکم شرعی ہے اس کے لیے خصوصیت کے ساتھ دلیل ضروری ہے۔[1] خلاصہ یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی وہ کام ہے جس کی ممانعت حدیث میں وارد ہو اور اس کا بیان جواز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فعل سے ثابت ہو، جیسے کھڑے ہو کر پانی پینا اور خلاف اولیٰ وہ کام ہے جو مستحب کے خلاف ہو جیسے مسجد میں پہلے بایاں پیر رکھنا یا جس کام میں مستحب کا ترک ہو جیسے وضو سے پہلے بسم اللہ نہ پڑھنا۔
زین الدین ابن نجیم لکھتے ہیں : حاصل یہ ہے کہ جب سنت مؤکدہ قویہ ہو (جیسے دو رکعت سنت فجر) تو یہ بعید نہیں ہے کہ اس کا ترک کرنا مکروہ تحریمی ہو جیسے ترک واجب مکروہ تحریمی ہے اس کا ترک کرنا بھی مکروہ تحریمی ہے اور اگر سنت غیر مؤکدہ ہو تو اس کا ترک کرنا مکروہ تنزیہی ہے اور اگر کوئی کام مستحب ہو یا مندوب (مطلوب) ہو یا سنت نہ ہو تو پھر چاہیے کہ اس کا ترک بالکل مکروہ نہ ہو جیسا کہ فقہا نے یہ تصریح کی ہے کہ مستحب یہ ہے کہ عید الاضحیٰ کے دن نماز سے پہلے کچھ نہ کھائے اور قربانی کر کے اس کے گوشت سے کھائے اور اگر اس نے قربانی کے گوشت کے علاوہ کسی اور چیز کو کھالیا تو یہ مکروہ نہیں ہے لہٰذا مستحب کے ترک سے مکروہ کا ثبوت لازم نہیں آتا البتہ اس پر یہ اشکال ہے کہ فقہا نے یہ کہا ہے کہ مکروہ تنزیہی خلاف اولیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ترک مستحب خلاف اولیٰ ہے۔[2]
مکروہ تنزیہی کا خلاف اولیٰ کی طرف رجوع کرنا اور چیز ہے اور مکروہ تنزیہی کا خلاف اولیٰ ہونا ایک الگ چیز ہے اور مجازاً اور توسعاً ایک مقابل کا دور سے مقابل پر اطلاق ہوجاتا ہے جیسے فرض پر واجب کا اطلاق کردیتے ہیں اور مکروہ تحریمی پر حرام کا اطلاق کردیتے ہیں لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ فرض اور واجب میں اور حرام اور مکروہ تحریمی میں کوئی فرق نہ ہو اس لیے اگر فقہا مکروہ تنزیہی پر خلاف اولیٰ کا اطلاق کر دیتے ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان میں کوئی فرق نہ ہو۔[3]

حوالہ جاتترميم

  1. ردالمحتارج 2 ص 367 داراحیاء التراث العربی بیروت۔
  2. البحرالرائق ج 2 ص 32مطبع مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ
  3. تفسیر تبیان القرآن، غلام رسول سعیدی