خلیج فارس کا قومی دن ایران میں ہر سال 30 اپریل کا دن روز ملی خلیج فارس یعنی خلیج فارس کے قومی دن کے عنوان سے منایا جاتا ہے- اس دن پورے ایران میں مختلف مراسم و جشن منعقد کیے جاتے ہیں- 30 اپریل 1622 کے دن شاہ عباس کی فوج نے ہرمز کی بندرگاہ میں پرتگالیوں کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کی تھی- ایران کی غیر سرکاری تنظیموں نے سال 2004 میں 30 اپریل کے دن کو روز ملی خلیج فارس کا نام دیا- بعد میں حکومت ایران نے بھی اس تجویز کی تائید کر دی-[1] حقیقت یہ ہے کہ اس دن کے ساتھ دو مناسبتیں جڑی ہیں- ایک تو اس دن پرتگالی استعمار کا خاتمہ ہوا اور دوسرے اسی دن سال 2004 میں روز ملی خلیج فارس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا- خلیج فارس دراصل ایک تاریخی و قدیمی نام ہے- یہ نام اور اس سے ملتے جلتے نام تقریبا 2400 سال قبل سے 1964 تک دنیا کی تمام زبانوں میں سرکاری اور بین الاقوامی نام کے طور پر استمال ہوتے رہے ہیں- لیکن عرب ممالک نے 1964 میں خفیہ طور پر طے کیا کہ خلیج فارس کا نام بدل کر خلیج عرب رکھ دیا جائے۔

نشر. کتاب 2004


ایرانی لوگ اس اقدام کو عرب تعصب اور قوم پرستی کا ایک نمونہ تصور کرتے ہیں- ان کا ماننا ہے کہ جمال عبدالناصر کے دور تک کسی عربی دستاویز و مکتوب میں خلیج عرب کی اصطلاح کا استمال نہیں کیا گیا ہے اور عرب دنیا کا ورثہ کہی جانے والی تمام اہم کتابوں میں بحر فارس اور خلیج فارس جیسی اصطلاحات ہی پائی جاتی ہیں- اس لیے ایرانیوں نے اس دن کو روز ملی خلیج فارس کا نام دیا ہے تاکہ اس تاریخی و قدیمی نام کو بدلنے کی کوششوں کو روکا جاسکے- ایرانیوں کا کہنا ہے کہ اگر سمندروں کے نام تبدیل کیے ہی جانے ہیں تو بحرعرب کا نام بحر مکران کیا جانا چاہیے کیونکہ اس کے چاروں طرف تقریبا ایک ارب غیر عرب لوگ آباد ہیں اور اس نام کا استمال بھی پرتگال کے استعمار کے دور سے ہی شروع ہوا ہے-

1960ء کی دہائی میں مصری صدر جمال عبدالناصر اور ان کے دیگر عرب قوم پرست ساتھیوں نے خلیج فارس کے نام سے مشہور خلیج کو خلیج عرب کا نام دیا۔ یہ انتہائی متنازع اصطلاح ہے جو عرب دنیا کے علاوہ کہیں بھی مستعمل نہیں نہ ہی اقوام متحدہ اسے تسلیم کرتی ہے۔[2][3][4]

فہرست متعلقہ مضامین ایران

ترمیم


حوالہ جات

ترمیم

بیرونی روابط

ترمیم
  • مستند خلیج فارس ارد عطارپور شبکه 1 سیماوڈیو یوٹیوب پر
  • سمینار خلیج فارس 10 اردیبهشت 1390 در بوشهر نام گزاری روز ملی خلیج فارس چگونه شکل گرفت؟[1]آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ iranseda.ir (Error: unknown archive URL)
  • کتاب خلیج فارس، نامی کهن و میراث فرهنگی،شهریور1383 صفحه 90تا 92 راهکارهای پاسداری از نام خلیج فارس
  • Documents on the Persian Gulf's name : the eternal heritage of ancient time

Author: Ajam, Muḥammad.]] [2]آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ 0-dla.library.upenn.edu.librus.hccs.edu (Error: unknown archive URL)

  • نقشه های دیدنی از دریای پارس

وڈیو یوٹیوب پر