خواتین کے رسائل (انگریزی: women's magazines) سے مراد وہ رسالے جو بہ طور خاص خواتین کے پڑھنے، ان کی دل دلچسپی اور ان کی رہنمائی کے لیے شائع ہوں۔ اس طرح کے رسالے دنیا کے ہر ملک میں شائع ہوتے ہیں۔ جیسے کہ عربی زبان میں مصر سے شائع ہونے والا حوا رسالہ یا بھارت سے شائع ہونے والے فیمینا اور ویمینز ایرا یا پاکستان کا دوشیرہ۔ یہ رسائل انیسویں صدی سے کافی رواج پانے لگی ہیں۔ جیسے کہ غیر منقسم ہندوستان میں رسالہ’ النساء ‘کا نام اہمیت کا حامل ہے۔ رسالہ النساء کا پہلا شمارہ 1919ء میں محترمہ صغرا ہمایوں مرزا کی ادارت میں شائع ہوا۔ یہ خواتین کا رسالہ تھا جس میں زیادہ ترخواتین کے مضامین شائع ہوا کرتے تھے۔ اس رسالے کی مدیرہ ایک اصلاحی اور انقلابی مزاج کی خاتون تھیں۔مدیرہ نے ایسے مضامین شائع کیے جن میں خواتین کی تعلیم، ان کی تربیت پر زور دیا گیا ہو۔[1] اس کے بعد کئی رسائل بر صغیر میں رو نما ہوئے اور کئی خواتین سے جڑے مضامین دیگر رسائل میں شائع ہوئے۔

جنرل فیڈریشن آف ویمینز کلبز میگزین میں اینا ہووارڈ کا تیار کردہ سر ورق جو اگست 1915ء میں شائع ہوا۔

خواتین پر مضامینترميم

خواتین پر ان رسائل میں مضامین سوانحی، طرز زندگی، شادی بیاہ، رسم و رواج، آداب زندگی، جنسی برابری، قانونی اور مذہبی پہلوؤں پر مرکوز ہوتے رہے ہیں۔ اس میں کئی بار مذہبی اور نظریاتی مضامین بھی شائع ہوتے ہیں۔ ہر مضمون یا رسالہ معیاری نہیں ہوتا رہا ہے۔ اس میں کئی غیر تحقیقی مضامین بھی ہوا کرتے تھے۔ مثلًا صحت کے بارے میں مشورے اور مختلف سماجی ٹوٹکے جن کے بارے میں کوئی سائنسی تحقیق موجود نہیں ہے۔ [2]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم