خواتین کے لیے تحفظات کا بل

1992ء میں 73 ویں اور 74 ویں دستوری ترامیم بھارت میں منظور ہوئے جن سے خواتین کو پنچایت راج اداروں اور شہری مقامی اداروں میں تحفظات فراہم ہوئے۔ ان ہی خطوط پر بھارت کے دستور کا 108 واں ترمیمی بل پیش کیا گیا جس کی رو سے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں عورتوں کو ایک تہائی نشستیں فراہم کرنا تھا۔ اس بل ہی کے ذریعے درج فہرست طبقات و درج فہرست قبائل کو بھی تحفظات فراہم کرنا تھا۔ ایسی تجاویز تھی کہ دفعہ 330A, 332A اور 334A میں ترمیم کی جائے تاکہ خواتین کے تحفظات کو یقینی بنایا جاسکے۔ بل کی رو سے مختلف ریاستوں کی 4109 نشستوں میں سے 1370 نشستوں کو عورتوں کے لیے محفوظ کیا جائے جبکہ لوک سبھا کی 543 نشستوں میں سے 181 کو عورتوں کے لیے محفوظ کیا جائے۔ راجیہ سبھا نے اس بل کو 9 مارچ 2010ء کو منظوری دے دی۔ تاہم پندرہویں لوک سبھا کی تحلیل کے ساتھ ہی اس بل کی میعاد ختم ہو گئی۔

پس منظرترميم

1970ء کی دہائی سے بھارت کی ہر سیاسی پارٹی خواتین کا الگ سیل قائم کر رہی تھی۔ انڈین نیشنل کانگریس میں اس شاخ کا نام مہیلا کانگریس ہے۔ سی پی آئی میں یہ شاخ نیشنل فیڈریشن آف ویمین اِن انڈیا کے نام مشہور ہے۔ سی پی آئی ایم میں اس شاخ کا نام آل انڈیا ڈیموکریٹیک ویمینز ایسوسی ایشن ہے۔ ان جماعتوں کے مقابلے نسبتًا نوتشکیل شدہ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی ایک فعال مہیلا مورچہ رکھتی ہے۔ اس طرح بھارت کی لگ بھگ سبھی سیاسی جماعتیں خواتین کی طاقت کو تسلیم کرتی ہیں۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. Dr M V Lakshmi Devi, Dr S Suatha, Dr B Ramaiah, P Venkata Ramana, “Social Structures, Issues and Policies”, Pg 147, Telugu Akademi, Hyderabad, 2016.