خود توقیری مرکب ہے دو الفاظ سے - خود اور توقیر یا تعظیم سے۔ یہ ایک فرد کی خود کی وقعت کا تفصیلی جذباتی تجزیہ ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو ایک فرد خود کے تیئیں اختیار کردہ رویے کے تحت کرتا ہے۔ خود تعظیم میں کئی ایسے یقین جڑے ہوتے ہیں جو خود سے متعلق ہوتے ہیں، (مثلًا، "میں باصلاحیت ہوں"، "میری اپنی اہمیت ہے")، جس کے ساتھ ساتھ جذباتی حالات بھی ہوتے ہیں جیسے کہ فتح، ناامیدی، فخر اور شرم۔[1] اسمتھ اور میکی نے 2007ء میں یہ تعریف پیش کی تھی کہ "خود کا تصور اس بات سے تعلق رکھتا ہے کہ ہم خود کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؛ خود کی تعظیم، خود کے بارے میں مثبت یا منفی تجزیہ ہے، جیسا کہ ہم اس بارے میں سوچتے ہیں۔[2]:107

خود کی تعظیم سماجی و نفسیاتی نقطہ نظر سے پُر کشِش ہے کیوں کہ محققین نے یہ خیال پیش کیا ہے کہ یہ کچھ نتائج کا مؤثر اشارہ دیتا یے، جیسے کہ تعلیمی کامیابی،[3][4] خوشی،[5] شادیوں اور رشتے داریوں پر اطمینان،[6] اور مجرمانہ فطرت۔[6] خود کی تعظیم خصوصًا کسی مخصوص زاویے پر مستعمل ہو سکتی ہے (مثلًا "میرا ایقان ہے کہ میں ایک اچھا لکھاری ہوں اور اس بارے میں مجھے خوشی ہے") یا عالمی تناظر کے پس منظر میں ("مجھے یقین ہے کہ میں ایک برا شخص ہوں اور عمومًا اپنے بارے میں برا محسوس کرتا ہوں")۔ ماہرین نفسیات عمومًا خود کی تعظیم کو ایک پایہ دار شخصیتی صفت (خود کی تعظیم "خصوصیت") قرار دیتے ہیں، جو عام ہے، مخصتر اصطلاحی فرق (خود کی تعظیم کی "حالت") بھی موجود ہے۔ خود کی تعظیم کے ہم معنی یا قریب المعانی الفاظ میں خود کی وقعت،[7]، خود کا لحاظ،[8] خود کی عزت،[9][10] اور خود کی بھروسا مندی ہیں۔

اہم نکات

ترمیم

خلاصہ یہ کہ جب کسی شخص کا ذہن خود اس کے بارے میں برا محسوس کرتا ہو، اسے اپنے اندر عیب نظر آ تے ہوں، تو اسے اپنی خوبیاں یاد کرنا چاہیے یا لوگوں کو دلانا چاہے۔ لوگ جب اس شخص کو اپنی صلاحیتیں یاد کرائیں گے ،اپنے اچھے کام یا د دلائیں گے ،اور اس کو مثبت پیغامات دیں گے۔ لوگ اگز بھلائی کے کاموں میں حصہ لیں گے تاکہ آپ اپنے بارے میں اچھا محسوس کریں ۔ تو اس سے ان کا ذہن ان لوگوں کو اپنے بارے میں مبالغہ پر مبنی پیغامات دیتا ہے تو بھی لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اس کو مثبت اور حقیقت پر مبنی پیغام دیں اور اس کو حقیقت دکھائیں اور اپنی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اپنی کمزوریوں ، خامیوں اور ناکامیوں کو بھی یاد کریں۔اور اس کو بتائیں کہ آپ بھی دوسرے انسانوں کی طرح ہیں،وہ اور آپ سب برابر ہیں،آپ اور طرح کی صلاحیتیں رکھتے ہیں اور دوسرے لوگ کسی دوسرے کاموں میں ماہر ہیں ۔[11]

حوالہ جات

ترمیم
  1. John P. Hewitt (2009)۔ Oxford Handbook of Positive Psychology۔ Oxford University Press۔ صفحہ: 217–224۔ ISBN 978-0-19-518724-3 
  2. E. R. Smith، D. M. Mackie (2007)۔ Social Psychology (Third ایڈیشن)۔ Hove: Psychology Press۔ ISBN 978-1-84169-408-5 
  3. H.W. Marsh (1990)۔ "Causal ordering of academic self-concept and academic achievement: A multiwave, longitudinal path analysis."۔ Journal of Educational Psychology۔ 82 (4): 646–656۔ doi:10.1037/0022-0663.82.4.646 
  4. S. Yagual “Efectos de la violencia intrafamiliar en el autoestima de los estudiantes de octavo y noveno año de la Escuela de educación básica 11 de Diciembre” Editorial La Libertad. Universidad Estatal Península de Santa Elena, 2015. Ecuador. Online at http://repositorio.upse.edu.ec/xmlui/handle/46000/2069 آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ repositorio.upse.edu.ec (Error: unknown archive URL)
  5. Roy F. Baumeister، L. Smart، J. Boden (1996)۔ "Relation of threatened egotism to violence and aggression: The dark side of self-esteem"۔ Psychological Review۔ 103 (1): 5–33۔ PMID 8650299۔ doi:10.1037/0033-295X.103.1.5 
  6. ^ ا ب Orth U.، Robbins R.W. (2014)۔ "The development of self-esteem"۔ Current Directions in Psychological Science۔ 23 (5): 381–387۔ doi:10.1177/0963721414547414 
  7. "Great Books Online -- Quotes, Poems, Novels, Classics and hundreds more"۔ Bartleby.com۔ 25 جنوری 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 دسمبر 2017 
  8. "Bartleby.com: Great Books Online -- Quotes, Poems, Novels, Classics and hundreds more"۔ Bartleby.com۔ 25 جنوری 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 دسمبر 2017 
  9. "Great Books Online -- Quotes, Poems, Novels, Classics and hundreds more"۔ Bartleby.com۔ 24 جنوری 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 دسمبر 2017 
  10. The میک کوائر ڈیکشنری. Compare The Dictionary of Psychology by Raymond Joseph Corsini. Psychology Press, 1999. آئی ایس بی این 1-58391-028-X. Online via گوگل کتاب کھوج،
  11. "صحت مند اور مثبت سیلف اسٹیم کیسے ؟"۔ 24 دسمبر 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 04 جون 2018