خیبر

سعودی عرب کا ایک رہائشی علاقہ

خیبر ( عربی: محافظة خيبر) سعودی عرب کا ایک رہائشی علاقہ ہے۔[3]

خیبر
(عربی میں: خيبر)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1448) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خیبر
Khaybar - deserted houses.jpg
 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[2]
تقسیم اعلیٰ المدينہ علاقہ  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
متناسقات 25°41′55″N 39°17′33″E / 25.698611111111°N 39.2925°E / 25.698611111111; 39.2925  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 16081 (مردم شماری) (2010)[1]
13353 (مردم شماری) (2010)[1]
2728 (مردم شماری) (2010)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
اوقات متناسق عالمی وقت+03:00  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
جیو رمز 104979  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

خیبر عبرانی لفظ ہے، جس کے معنی قلعہ کے ہیں، اس بستی کویہود سے بڑا قدیم تعلق ہے اور پھراس سرزمین کوقلعوں کی سرزمین کہا جائے توصحیح بھی ہے، اس لیے کہ یہاں بہت سے قلعے تھے جن کی یادگار آج تک باقی ہے، خیبر حجاز کا بڑا زرخیز علاقہ ہے جس کوتجارتی لحاظ سے بھی بڑی اہمیت حاصل تھی یہاں کے یہود اقتصادی حیثیت سے بہت ممتاز تھے؛ انہوں نے متعد دجنگی قلعے بنارکھے تھے، جن میں سات قلعے بہت مشہور تھے: #ناعم (2)قموص (3)حصن الشق (4)حصن النطاۃ (5)حصن السلالم (6)حصن الوطیح (7)حصن الکتیبہ۔[4] شمال حجاز میں یہود کابڑا مرکز خیبر تھا جوشام کے راستے میں مدینہ منورہ سے تقریباً آٹھ منزل پر واقع ہے، یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ یہاں کی یہودی آبادی کہیں سے ہجرت کرکے آئی تھی یایہیں کی خود عرب آبادی نے یہودیت قبول کرلی تھی، بعض قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قدیم آبادی ہے، معجم البلدان نے خیبر کی وجہ تسمیہ کے سلسلہ میں لکھا ہے کہ یہ بستی خیبر بن قانیہ کی طرف منسوب ہے، اس لحاظ سے ان کے اور انصار کے جدّ اعلی ایک ہی ہیں، انصار کے جداعلیٰ یثرب بن قانیہ تھے۔ یعقوبی کا بیان ہے کہ اسی میں بیس ہزار سپاہی رہتے تھے [5] یعقوبی کے اس بیان سے خیبر کی وسعت اور اس کی آبادی کی کثرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہود کی اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں جب بہت بڑھ گئیں توسنہ7ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف جارحانہ کارروائی کرکے اُن کوشکست دی ام المومنین صفیہ کا وطن خیبر ہی تھا۔

خیبر مدینہ منورہ سے 60 میل کے فاصلے پر واقعہ یہودیوں کا بڑا شہر تھا۔ یہودی سازشیں کرتے تھے، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان پر حملہ کر کے قلعہ خیبر فتح کر لیا۔ یہاں کی زمینوں کی پیداوار کا نصف حصہ اسلامی حکومت کے تصرف میں آیا۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب تعداد السكان والمساكن — اخذ شدہ بتاریخ: 12 جولا‎ئی 2020
  2.    "صفحہ خیبر في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 9 ستمبر 2021ء. 
  3. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین. "Khaybar". 10 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 12 فروری 2015. 
  4. معجم البلدان،مؤلف: ابو عبد الله ياقوت بن عبد الله الرومی الحموی،ناشر: دار صادر، بيروت
  5. یعقوبی:2/52