خیبر سعودی عرب میں مدینہ منورہ سے شمال کی جانب 95 میل کے فاصلے پر واقع ایک شہر ہے۔ قبل از اسلام یہ علاقہ یہودیوں کا مسکن تھا۔

غزوہ خیبر

ترمیم

خیبر کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے 629ء میں اسے فتح کیا اس کی تفصیل غزوہ خیبر کے مقالے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس بستی میں یہود کے چھ قلعے تھے جن میں قموص سب سے زیادہ مستحکم تھا۔ عرب میں یہی مقام یہود کی قوت کا مرکز تھا۔ 7 ھ میں جب انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے تیاری شروع کی تو حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی فوج جمع کی۔ اس موقع پر آپ نے پہلی مرتبہ علم تیار کرائے اورخاص علم جو حضرت عائشہ رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کی چادر سے بنایا گیا تھا حضرت علی کو عطا فرمایا۔ مرحب پہلوان نے قموص کی مدافعت میں سردھڑ کی بازی لگا دی۔ آخر میں بیس دن کے محاصرے کے بعد مرحب مارا گیا۔ اور قلعہ حضرت علی کے ہاتھوں فتح ہو گیا۔ یہودیوں نے مجبور ہو کرصلح کر لی۔ مزروعہ زمین پر یہودیوں کا قبضہ رہنے دیا گیا اور یہ شرط طے پائی کہ پیدوار کا نصف ہر سال مسلمانوں کو دیا جائے گا۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے عہد میں یہودیوں نے عہد شکنی کی تو انھیں عرب کی حدود سے باہر نکال دیا گیا۔

متعلقہ مضامین

ترمیم