مرکزی مینیو کھولیں
framepx
دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا

دریائے کرم (پشتو: د کرمې سيند‎) افغانستان کے صوبے غزنی کے پہاڑوں سے متصل 50 میل دور کوہ سفید کے جنوبی حصے سے نکل کر علاقہ کرم ایجنسی میں قوم بنگش کے زمینوں کو سیراب کرتے ہوئے ٹل بلند خیل شاخ، بنگش خیل کے پاس سے گزرتا ہے۔ ضلع بنوں کی مغربی حد سے متصل پوسٹ کرم کے مقام مشرق سے بنوں میں داخل ہوتا ہے یہ دریا تقریباً ہر موسم میں بہتا ہے آس پاس پہاڑی برساتی نالے اس میں جاگرتے ہیں۔ ماضی میں برسات کے دنوں دونوں کناروں تک بہتا تھا مگر کرم گڑھی سکیم کے بعد دریا سنبھلنے لگا۔ اب ماضی کی طرح کہرام بپا نہیں کرتا۔ ماضی میں بہت سارے قصبات اور اراضی دریا برد ہوئے ہیں۔ دریائے کرم سے قبیلہ منگل نے پہلی بار نہر کچکوٹ نکالی تھی ایک دوسری ویال پٹونہ ہے جو بعد میں جنوب سے موجود اولاد شیتک کے عہد میں نکالی گئی ہے جس سے علاقہ ممد خیل وزیر سیراب ہوتا ہے۔ مجیر نکلسن نے ویال لنڈیڈوک ٹیلی رام تحصیلدار کی نگرانی میں 1855ء میں کھدوائی۔ اسے ٹیلی رام نہر بھی کہتے ہیں اس سے لنڈیڈوک کی چھ ہزار کنال اراضی قابل کاشت بن گئی ہے اس کے علاوہ ویال آمندی ویال ہنجل، ویال منڈان، ویال فاطمہ خیل، خون بہا، ویال چشنہ اور ویال شاہ اسی دریائے کرم سے نکالی گئی ہیں۔ ویال شاہ جو یہ شاجہان کے بیٹے دارا سے منسوب کی جاتی ہے۔ بہتر نظامِ آبپاشی کے باعث بنوں ایک زرخیر جگہ ہے۔ دور سے دیکھا جائے تو بنوں جنگل نظر آتا ہے۔

مزید دیکھیےترميم