مرکزی مینیو کھولیں

پشتونوں کا ایک قبیلہ ہے۔ وادی کوہاٹ سے کرم ایجنسی تک اس قبیلے کی تین شاخیں بائے زئی، میران زئی اور اسماعیل زئی آباد ہیں۔ پاکستان کے علاقہ ہنگو کوہاٹ اور کرم ایجنسی میں جبکہ اکثریت افغانستان کے صوبوں پکتیا , پکتیکا , غزنی اور خوست میں ان کی اکثریت ہے۔ بنگش قبائیل کی سر زمین پہاڑی علاقہ رہی ہے۔ بنگش قبائیل خاندانی طور پر انتہائی امیر ہیں۔ مغلوں سے ان کی کئی لڑائیاں ہوئیں لیکن جب خوشحال خان خٹک اور مغلوں میں لڑائی ہوئی تو بنگشوں نے مغلوں کا ساتھ دیا جس کے باعث خوشحال خان خٹک ان سے ناراض ہو گیا ۔

فہرست

تاریخترميم

بنگش عرب قبیلے سے تعلق رکتھے ہیں۔ جو افغانستان میں آکر آباد ہو گئے۔ ( سید اسماعیل شاہ بنگش ) جو بنگش قبائیل کا سردار تھا۔ وہ صحابی رسول صلى الله عليه وسلم ( خالد بن ولید ) کا داماد تھا۔ جو انتہائی بہادر تھا۔

وجہ تسمیہترميم

یہ قبیلہ بہت جابر تھا۔ جس کے خلاف اٹھتا اس کی بیخ کنی کر ڈالتا اس لیے بن کش (جڑ سے اکھاڑنے والا) کہلایا۔ جبکہ کچھ مورخین کے مطابق بنگش کا مطلب ہیں ( شیر ) مرورِ زمانہ سے یہ لفظ بنگش ہو گیا۔

فرخ آباد کے نوابترميم

فرخ آباد کے بنگش قبیلہ سے تعلق رکھنے والے نوابوں نے اس علاقہ کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا جد امجد محمد خان بنگش تھا۔

زبانترميم

بنگش قبائیل سو فیصد پشتون ہیں۔ اس لیے انکی زبان بھی قندہاری لہجہ کی پشتو ہے۔ لیکن ان کے پشتو کی ایک علاحدہ پہچان ہے۔