مرکزی مینیو کھولیں

پراچین زمانے سے گندھارا تہذیب اور تمدن جب اپنے عروج پر تھا تو یہ علاقہ گھنے جنگلات کا ایک حصہ تھا اور ایک دریا کرم کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا جس کا ذکر سنسکرت کی کتاب جو ہندوؤں کی مقدس کتاب ہے (رگ وید )میں بھی آیا ہے۔

کرم ضلع
(اردو کرم
(پشتو: كرمه)
ایجنسی
ضلع کرم
ضلع کرم
ملک پاکستان
تحصیل
حکومت
 • کمشنر 1
رقبہ
 • کل 3,310 کلو میٹر2 (1,280 مربع میل)
آبادی (1998)
 • کل 448,310
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)
اہم (زبانیں پشتو, اردو اور انگریزی.

550 قبل مسیح چندر گپت موریا خاندان نے جب ٹیکسلا کو اپنا دار الحکومت بنایا اور اپنے تہذیب اور تمدن کو ترقی دیں تو ان کی توجہ کا خاص مرکز پاکستان کے یہ علاقے آبادکاری کی جانب متوجہ ہوئے اپنے سحرانگیز آب و ہوا کی وجہ سے اس علاقے کے پہاڑوں میں مختلف قبائل آ کر آباد ہونا شروع ہوئے جس کا سہرا تاریخ کے لازوال ہیرو مہاراجا اشوک کے سر جاتا ہے۔جس کی آباد کردہ درجنووں چھوٹی بڑی آبادیاں اور دیہات جو آج صرف کھنڈر کی شکل میں موجود ہے جن میں قابل ذکر بین الاقوامی ورثاء یونیسکو اور نیشنل ہیرٹیچ سائیٹ جن میں قابل ذکر تخت بھائی کے کھنڈر سوا ت کے کھنڈر مینادم کے کھنڈر اور دیگر پتھروں پہ کندھا کی گئی بدھ مذہب کی تصاویر اس بات کی دلیل ہے کہ عیسی علیہ السلام سے قبل بھی پاکستان کا یہ خوبصورت علاقہ انسانی دسترس کا حصہ تھا


کرم خیبر پختونخوا میں ایک ضلع ہے۔ یہاں پر اکثریت اورکزئی، چمکنی،منگل،حاجی اورطورى قبائل آباد ہیں۔ ارض پاکستان کی جنت نظیر وادی اور اسٹرٹیجک و جغرافیائی اہمیت کا حامل انتہائی اہم علاقہ پاراچنار افغانستان کے تین صوبوں (ننگرہار، خوست اور پکتیا) کے علاوہ دیگر تین قبائلی علاقوں خیبر، اورکزئی اور شمالی وزیرستان کے ساتھ ساتھ ضلع ہنگو سے بھی متصل ہے۔ کئی دہائیوں سے یہ علاقہ اپنی جغرافیائی اہمیت و اسٹرٹیجک خدوخال کی وجہ سے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشمکش کی وجہ سے میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ افغانستان کا مشہور پہاڑی علاقہ تورہ بورہ سپین غر [کوہ سفید] کے پہاڑی سلسلے کے اندر ایک طرف سے صوبہ ننگرہار اور دوسری طرف سے پاراچنار کے مضافاتی گاؤں زیڑان سے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پاکستان کے کسی بھی علاقے بشمول تمام قبائلی علاقوں کے افغان دار الحکومت کابل سے نزدیک ترین اور کم ترین فاصلے پر واقع ہے۔ اور اس علاقے کی شکل ایک مثلت کی سی ہے، چنانچہ بین الاقوامی اسٹرٹیجک اصطلاحات میں کرم ایجنسی کے صدر مقام پاراچنار کو طوطے کی چونچ "Parrots Beak" کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

جغرافیہترميم

پاراچنار افغانستان کے تین صوبوں (ننگرہار، خوست اور پکتیا) کے علاوہ دیگر تین قبائلی علاقوں خیبر، اورکزئی اور شمالی وزیرستان کے ساتھ ساتھ ضلع ہنگو سے بھی متصل ہے۔ پاراچنار پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کا دار الخلافہ ہے۔ پاراچنار پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد سے مغرب کی طرف 574 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کرم ایجنسی کا ایک خوبصورت اور اہم شہر ہے جو افغانستان کے بارڈر کے ساتھ واقع ہے۔ ایک تاریخی اہمیت کا حامل شہر ہے۔ جو تمام قبائیل ایجنسیوں کے شہروں سے بڑا اور دلکش خوبصورت شہر ہے ہیں۔

"کُرم" سب سے پہلے  ایک قبائلی ایجنسی تھا اور اب خیبر پختونخوا کا ایک نامکمل ضلع ہے کُرم کا ذکر سب سے پہلے ہندوؤں کی مقدس کتاب رگ وید میں ملتا ہے رگ وید میں دریائے کرم کو دریائے "کُرمو" کے نام سے یاد کیا گیا ہےترميم

دریائے کُرم کا کنارہ آریائی قوم کا ایک بہترین مسکن تھا وہ دریائے کرم سے اتنی محبت کرتے تھے کہ دریائے کرم کو اپنے مذھبی کتاب رگ وید میں دریائے "کُرمو" کے نام سے یاد کیا ==

کُرم ایک ایسی وادی ہے جنہوں نے بے شمار جنگوں اور بے شمار حکمرانوں کو اپنے کشادہ سینے پر لڑتے دیکھا ہے ایسے غداروں کو بھی اپنے سینے پر جگہ دی ہے جنہوں نے ہمیشہ وادی کرم کے باشندوں کو بےدردی سے شہید اور استعمال کیا ہے اذ جانب وسیم سجاد چمکنیترميم

کرم کی تین تحصیلیں پارہ چنار، صدہ اور بگن ہے۔

حوالہ جاتترميم