رؤیت ہلال (انگریزی: Moon Sighting) کے ذریعے کسی قمری مہینے کے آغاز و اختتام کا فیصلہ ہوتا ہے، چنانچہ مسلمانوں میں یہ رؤیت دینی اہمیت رکھتی ہے۔

معانیترميم

رُویّت کے لغوی معنی دیکھنا، نظارہ کرنا، دیدار کرنا، جاننا اور علم میں آنا کے ہوتے ہیں۔ رؤیت ہلال قمری تقویم میں کسی مہینے کے آغاز کا تعین کرنے کے لیے اس مہینے پہلی تاریخ کے چاند کے دیکھنے کو کہتے ہیں۔ اسلام میں اس سے مراد پہلی تاریخ کے چاند کو دیکھ کر اسلامی مہینے کا اعلان کرنا ہے۔

رویت ہلال کے مروجہ دستورترميم

  • پاکستان میں چاند دیکھ کر اسلامی مہینے کے آغاز کا اعلان کرنے کی ذمہ داری رویت ہلال کمیٹی، پاکستان کے سپرد ہے۔
  • دنیا کے 45 ممالک سعودی عرب کے اعلان کردہ دن عید مناتے ہیں اور خود چاند نہیں دیکھتے۔
  • دنیا کے 37 ممالک فلکیاتی حساب کی بنیاد پر عید مناتے ہیں، یعنی قِران (یعنی نئے چاند کی پیدائش) کو ہی کافی جانتے ہیں، خواہ وہ دیکھنے کے قابل نہ ہوا ہو۔
  • دنیا کے 37 ممالک مقامی طور پر چاند کو دیکھنے کے بعد عید کا اعلان کرتے ہیں۔[1]۔

رؤیت ہلال کی شرائطترميم

  1. غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر
  2. غروب آفتاب کے وقت چاند کا افقی زاویہ (Azimuth)
  3. غروب آفتاب کے وقت چاند کی افق سے بلندی (Altitude)

موٹا چاند نظر آنے کی وجوہاتترميم

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ اگر نیا چاند موٹا ہو تو یہ پہلے دن کا چاند نہیں ہو گا اور پچھلے دن اسے دیکھے جانے میں غلطی کی گئی ہے۔یہ غلط ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ نئے ماہ کا پہلا دن نہ ہو لیکن چاند کا منظر تو پہلا ہی رہتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر چاند 17 گھنٹے سے چھوٹا ہو تو یہ نظر نہیں آئے گا۔ تکنیکی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ چاند موجود ہے لیکن اوقات کے مختلف ہونے کی وجہ سے زمین سے دیکھا نہیں جا سکتا۔ اگلے دن اسی وقت تک چاند 41 گھنٹے کا ہو چکا ہوتا ہے اس لیے وہ معمول سے زیادہ بڑا نظر آتا ہے۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. Moonsighting for Shawwal 1439
  2. "چاند کا تنازع اور سائنس". 02 اگست 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 06 مئی 2019. 

متعلقہ مضامینترميم