ربیع بن خثیمؒ جلیل القدر تابعین میں سے ہیں۔

ربيع بن خثيم
معلومات شخصیت
پیدائشی نام الربيع بن خثيم
تاریخ وفات 680ء کی دہائی  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
نسب الثوري
استاد عبد اللہ بن مسعود  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آٹھ زاہد

نام ونسب ترميم

ربیع نام، ابویزید کنیت، نسباقبیلہ ثعلبہ کی ایک شاخ ثور سے تھے، نسب نامہ یہ ہے، ربیع بن خثیم بن عائذ بن عبداللہ بن متقذ بن ثور ثوری، ربیع ان تابعین میں ہیں جنہوں نے رسالت کا مقدس دور پایا تھا، لیکن شرفِ صحابیت سے محروم رہے، تاہم وہ اس عہد کے برکات سے مالا مال تھے اورعمل و علم اورزہد وتقویٰ کے اعتبار سے ممتاز ترین تابعین میں ہیں۔

فضل وکمال ترميم

وہ صاحب علم تابعین میں تھے، لیکن ان کے علم کی روشنی کو زہد و ورع کے نور نے مدہم کردیا تھا، یہی وجہ ہے کہ وہ علم سے زیادہ تقویٰ میں مشہور ہیں، ورنہ جہاں تک ان کے علمی کمالات کا تعلق ہے اس میں بھی وہ اپنے اقران میں ممتاز تھے، انہوں نے زمانہ ایسا پایا تھا جب علماء صحابہ کی بڑی جماعت موجود تھی؛چنانچہ صحابہ میں انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ اورابو ایوب انصاریؓ سے فیض اٹھایا تھا [1] عبداللہ بن مسعودؓ سے خصوصیت کے ساتھ زیادہ مستفید ہوئے تھے، ان کی بارگاہ میں ربیع کو اتنا تقرب حاصل تھا کہ جب وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تو جب تک دونوں کی تنہائی کی صحبت ختم نہ ہوجاتی اوردونوں کی ضرورتیں پوری نہ ہوجاتیں، اس وقت تک کسی کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہ ملتی، ابن مسعودؓ پر ان کے فضائل وکمالات کا اتنا اثر تھا کہ وہ ان سے فرمایا کرتے تھے کہ ابو یزید اگر تم کو رسول اللہ ﷺ دیکھتے تو تم سے محبت فرماتے، جب میں تم کو دیکھتا ہوں تو متواضعین یاد آتے ہیں۔[2] عبداللہ بن ؓ مسعود کی صحبت وہ تھی جس نے معمولی معمولی انسانوں کو صیقل علم سے جلادے کر چمکادیا، ربیع تو فطرۃ نہایت صالح اورصاحب استعداد تھے، اس لیے وہ ابن مسعودؓ کے علمی برکات سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوئے۔

قرآن ترميم

ربیع کو قرآن، حدیث، فقہ جملہ علوم میں درک تھا، عملی حیثیت سے قرآن کے ساتھ زیادہ شغف تھا، جس کا ذکر آئندہ آئے گا، قرآن کی تفسیر و تاویل وآیاتِ قرآنی سے استدلال کا بڑا ملکہ تھا، اپنی واعظانہ تقریروں میں وہ نہایت موزونیت سے آیاتِ قرآن کو کھپاتے تھے، جس کا اندازہ ان کے مواعظ سے ہوتا ہے ان کا وعظ عموما یہ ہوتا تھا۔ اے خدا کے بندے ہمیشہ بھلی بات کہا کر اور بھلائی پر عمل کیا کر، ہمیشہ بھلی خصلتوں پر رہا کر، اپنی مدت (حیات) کو زیادہ نہ سمجھ، اپنے قلب کو سخت نہ بنا اور ان لوگوں کا مصداق نہ بن جو کہتے ہیں ہم نے سنا؛حالانکہ وہ نہیں سنتے۔ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جو کہتے ہیں کہ ہم نے سنا ؛حالانکہ نہیں سنتے۔ اے خدا کے بندے اگر تو اچھے کام کرتا ہے تو ایک بعد دوسرا برابر کیے جا؛کیونکہ عنقریب تجھے وہ دن پیش آنے والا ہے، جب تجھ کو یہ حسرت رہ جائے گی کہ کاش زیادہ اچھے کام کیے ہوتے اگر تجھ سے کچھ برائیاں سرزد ہوچکی ہیں تو بھی اچھے کام کرکہ خدا فرماتا ہے: إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ بھلائیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں اوریہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔ اے بندۂ خدا خدانے اپنی کتاب میں جو علم تجھے عطا کیا ہے، اس پر اس کا شکر ادا کر اورجو اس نے تجھ کو نہیں دیا ؛بلکہ اپنے لیے مخصوص رکھا ہے، اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کر اوربناوٹ نہ کر کیونکہ خدا فرماتا ہے۔ [3] قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ، إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ، وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ [4] (اے پیغمبر)کہہ دے کہ میں اس پر تجھ سے کوئی اجر نہیں مانگتا اورمیں تکلیف کرنے والوں میں نہیں ہوں، قرآن دونوں عالموں کے لیے نصیحت ہے اورایک وقت آئے گا، جب تم کو اس کی حقیقت معلوم ہوگی۔

حدیث ترميم

حدیث میں انہیں حافظ ذہبی امام اورقدوہ لکھتے ہیں [5]عبداللہ بن مسعود ابوایوب انصاری، عمروبن میمون اورعبدالرحمن بن ابی لیلیؓ وغیرہ سے سماعِ حدیث کیا تھا اورابراہیم نخعی، امام شعبی، منذر ثوری، ہلال بن یساف اوربکر بن ماغر وغیرہ جیسے اکابر ان کے تلامذہ میں ہیں [6] معیار کے اعتبار سے ان کی روایات کا جو پایہ تھا، اس کا اندازہ ان آراء سے ہوسکتا ہے، امام شعبی کہتے تھے کہ ربیع سچائی کا معدن ہیں، ابن معین کا قول تھا کہ ربیع جیسے شخص کے متعلق کچھ پوچھنے گچھنے کی ضرورت نہیں۔[7]

فقہ ترميم

اگرچہ ربیع نے فقیہ کی حیثیت سے کوئی شہرت حاصل نہیں کی، لیکن ان کے تفقہ کے لیے یہ سند کافی ہے کہ وہ فقیہ الامت عبداللہ بن مسعودؓ کے جن کے فتاوی پر عراقی فقہ کی بنیاد ہے تربیت یافتہ اورخاص اصحاب میں تھے، لیکن جیسا کہ اوپر گزرچکا ہے ان کی ان حیثیتوں کو ان کے زہد وورع نے بالکل دبادیا تھا۔

بنی ثور کی بعض خصوصیات ترميم

عموماً ہر خاندان میں کچھ نہ کچھ خصوصیات ایسی ہوتی ہیں جو کم وبیش اس کے تمام افراد میں پائی جاتی ہیں، کوئی خاندان علم وفن میں ممتاز ہوتا ہے، کوئی زہد وورع میں کوئی اور کسی خاص وصف میں ربیع کا خاندان یعنی بنی ثور عبادت وریاضت میں نمایاں اورممتاز تھا، شبرما کا بیان ہے کہ میں نے کوفہ میں بنی ثور سے زیادہ فقیہ اور عبادت گزار شیوخ اورکسی قبیلہ میں نہیں دیکھے، ابی بکر زبیدی اپنے باپ کی زبانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ثوریوں اور غریبوں سے زیادہ مسجد میں بیٹھنے والا کوئی خاندان نہیں دیکھا۔ [8]

زہد وورع ترميم

ربیع اسی عبادت گزار قبیلہ کے فرد تھے جو مذہبی اورروحانی کمالات میں سب سے زیادہ نمایاں اور ممتاز تھا وہ نہ صرف اپنے قبیلہ ؛بلکہ جماعتِ تابعین کے عابد ترین افراد میں تھے ان کا شمار ان چند تابعین میں تھا جو زہد وورع کے لحاظ سےپوری جماعت میں ممتاز تھے۔[9] ان کے زہد وورع اور عبادت وریاضت پر تمام علماء اورمصنفین کا اتفاق عام ہے، امام شعبی کا بیان ہے کہ ربیع اپنی جماعت میں سب سے زیادہ متورع تھے [10] ابی عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ربیع سے زیادہ لطیف العبادہ نہیں دیکھا [11] حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ ربیع کا زہد اوران کی عبادت اس قدر مشہور ہے کہ اس کے متعلق کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔[12]

خشیت الہیٰ ترميم

اعمال حسنہ کا اصل سرچشمہ خشیت الہیٰ ہے، ربیع پر اتنی خشیت طاری رہتی تھی کہ روتے روتے داڑھی آنسووں سے تر ہوجاتی تھی، عذاب دوزخ کا معمولی نمونہ دیکھ کر بیہوش ہوجاتے تھے، اعمش بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ربیع لوہار کی بھٹی کی طرف سے گزرے تو بھٹی دیکھ کر بے ہوش ہوگئے۔ [13]

شب بیداری ترميم

ان کی عبادت کا خاص وقت شب کی تاریکی تھا، ساری رات عبادت کرتے تھے [14] پر موعظت آیات پڑھتے تھے اور شدتِ تاثر میں ان کو دہراتے دہراتے صبح کردیتے ان کے غلام نسیربن ذعلوق بیان کرتے ہیں کہ ربیع رات کی تاریکی میں تہجد پڑھتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے: أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ[15] کیا جنہوں نے برائیاں کی ہیں یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کے برابر کریں گے جنہوں نے اچھے اعمال کیے جن کی زندگی اورموت برابر ہے، وہ لوگ کیا ہی برا فیصلہ کرتے ہیں۔ تو اس کو دہراتے دہراتے صبح کردیتے تھے۔ [16]

جماعت کا اہتمام ترميم

نماز باجماعت کبھی ناغہ نہ ہوتی تھی، آخر عمر میں فالج کے اثر سے چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے تھے، لیکن اس وقت بھی نماز باجماعت قضا نہ ہوتی تھی دوسروں کے سہارے یا گھسیٹتے ہوئے مسجد پہنچتے تھے، ابوحیان اپنے والد کی زبانی بیان کرتے ہیں کہ ربیع فالج سے معذور ہوگئے تھے، لیکن نماز کے لیے پیروں سے گھسٹتے ہوئے یا دوسروں کا سہارا لے کر مسجد میں آتے تھے، لوگ کہتے ابو یزید اس مجبوری کی حالت میں تو گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت ہے، جواب دیتے حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح سننے کے بعد جہاں تک ہوسکے اس کا جواب دینا چاہئے، خواہ گھٹنے کے بل چلنا پڑے۔ [17]

جہاد لوجہ اللہ ترميم

اگر چہ ربیع ایک زاہد گوشہ نشین تھے، اسی لیے وہ خلافت راشدہ کے دور میں موجود ہونے کے باوجود اس عہد کی عملی زندگی میں نہیں نظر آتے؛ لیکن جہاد فی سبیل اللہ کے لیے گوشۂ عزلت سے باہر نکل آتے تھے اوریہ جہاد اس قدر خالص اورلوجہ اللہ ہوتا تھا کہ مال غنیمت بھی اپنے تصرف میں نہ لاتے تھے؛بلکہ جو کچھ ملتا تھا، اس کو خداہی کی راہ میں صرف کردیتے تھے، عبدخیر بیان کرتے ہیں کہ میں ایک جنگ میں ربیع کا رفیق جہاد تھا، اس میں انہیں غنیمت میں بہت سے غلام اور مویشی ملے، چند دنوں کے بعد مجھے ان کے پاس جانے کا اتفاق ہوا تو ان میں سے کوئی چیز نظر نہ آئی میں نے پوچھا غلام اور مویشی کیا ہوئے؟ اس مرتبہ انہوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا، جب میں نے دوبارہ پوچھا تو فرمایا: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ۔[18]

فی سبیل اللہ ترميم

سبیل اللہ ان کا خاص وصف تھا، آپ کو شیر ینی مرغوب تھی اس لیے جب کوئی سائل آتا، تو اسے شکر دیتے، لوگ آپ سے کہتے کہ وہ شکر کیا کرے گا، اسکے لیے تو اسے سے بہتر روٹی ہے، جواب دیتے خدا فرماتا ہے ویطعمون الطعام علی حبہ [19] حاجت مند، نادار اورمجنون پڑوسیوں کو اچھے اچھے کھانے پکوا کر کھلاتے تھے منذر ثوری کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ربیع نے اپنے گھر والوں سے خبیص (ایک قسم کا کھانا) پکانے کو کہا؛چونکہ وہ اپنے لیے کبھی کسی چیز کی فرمائش نہیں کرتے تھے اس لیے ان کی بیوی نے بڑے اہتمام سے خبیص تیار کیا، ان کے پڑوس میں ایک دیوانہ رہتا تھا، ربیع نے خبیص لے جاکر اپنے ہاتھ سے اس کو کھلایا، اس کے منہ سے لعاب بہتا جاتا تھا، جب کھلا کر گھر واپس آئے تو بیوی نے کہا ہم نے زحمت اٹھا کر اتنے اہتمام سے پکایا اورتم نے لے جاکر ایک ایسے شخص کو کھلادیا جو یہ بھی نہیں سمجھ سکتا کہ اس نے کیا کھایا، آپ نے جواب دیا خدا تو جانتا ہے۔[20]

امر بالمعروف نہی عن المنکر ترميم

امر بالمعروف اورنہی عن المنکر ان کی زندگی کا اہم مشغلہ تھا، اگرچہ وہ نہایت خاموش اورعزلت نشین تھے، لیکن امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے لیے یہ عزلت نشینی اورخاموشی ٹوٹ جاتی تھی، آپ کے پاس جو شخص آتا اس سے فرماتے اچھی باتیں کہا کرو اورخود اچھی باتوں پر عمل کیا کرو، ہمیشہ بھلائی پر رہا کرو، جہاں تک ہوسکے نیک کاموں میں زیادتی کرو اوربرے کاموں میں کمی، اپنے دلوں کو سخت نہ بنالو، تمہاری مدت زیادہ نہیں ہے، ان لوگوں میں نہ ہو جو زبان سے تو کہتے ہیں ہم سنتے ہیں، لیکن حقیقۃ نہیں سنتے۔ [21] جو شخص نصیحت کی درخواست کرتا اسے قرآنی احکام لکھوادیتے ایک شخص نے درخواست کی کہ کچھ وصیت فرمائیے، اس کی درخواست پر کاغذ منگا کر ‘قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ سے لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ’ تک قرآن کی آیات لکھوادیں، اس شخص نے کہا میں آپ کے پاس اس لیے آیا تھا کہ آپ مجھے وصیت فرمائیں گے، فرمایا بس اسی پر عمل کرو۔ [22]

پندار تقوی سے احتراز ترميم

اس راہ کی سب سے کٹھن منزل پندار تقوی ہے، جس میں بڑے بڑے زاہدوں کے قدم ڈگمگاجاتے ہیں اورعبائے زہد کا دامن پندار کے داغ سے داغدار بن جاتا ہے، ربیع کا یہ خاص کمال تھا کہ وہ تقویٰ کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہونے کے باوجود گنہگاروں کے لیے بھی اپنی زبان سے کوئی ناروا کلمہ نہ نکالتے تھے، نسر بن ذعلوق کا بیان ہے کہ کسی نے ربیع سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو برا نہیں کہتے، آپ نے جواب دیا خدا کی قسم مجھے خود اپنے نفس پر اطمینان نہیں ہے کہ دوسروں کو برا کہوں، لوگوں کا عجیب حال ہے کہ وہ دوسروں کے گناہوں پر تو خدا سے ڈرتے ہیں، لیکن خود اپنے گناہوں کی جانب سے بے خوف ہیں۔ [23]

شدت احتیاط ترميم

ربیع کو اوامرونواہی کی پابندی میں اتنا اہتمام تھا اوروہ چھوٹی چھوٹی اورمعمولی معمولی باتوں میں اتنی احتیاط برتتے تھے کہ ہر شخص کا ذہن بھی ان کی طرف منتقل نہیں ہوسکتا، بکر بن ماغر کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ربیع کی بچی نے ان سے کہا، ابا میں کھیلنے جاتی ہوں، فرمایا جاؤ اچھی باتیں کہو، چھوٹی بچی اس کو کیا سمجھتی، وہ سر ہوگئی کہ میں کھیلنے جاتی ہوں لوگوں نے ربیع سے کہا آپ اسے کھیل کے لیے کیوں نہیں جانے دیتے، فرمایا میں یہ نہیں چاہتا کہ میرے آج کے نامہ اعمال میں یہ لکھا جائے کہ میں نے کھیل کا حکم دیا۔ [24]

انکسار وتواضع ترميم

ان کمالات پر انکسار وتواضع کا یہ حال تھا کہ استنجا خانہ تک اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے تھے، ایک شخص نے کہا اس کام کے لیے دوسرے لوگ موجود ہیں، جواب دیا میں چاہتا ہوں کہ گھر کے کاروبار میں بھی حصہ لوں، ان کی خاکساری کو دیکھ کر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے تھے کہ تم کو دیکھ کر متواضعین کی یاد آجاتی ہے [25] کسی موقع پر بھی ان کی زبان سے برا کلمہ نہ نکلتا تھا، کسی سے تکلیف بھی پہنچتی تو اس کو دعادیتے، ایک مرتبہ مسجد میں نمازیوں کا ہجوم زیادہ تھا، جب جماعت کھڑی ہونے لگی اور لوگ آگے بڑھے تو ایک شخص نے جو ربیع کے پیچھے تھا، ان سے کہا آگے بڑھو؛ لیکن کثرتِ ازدحام سے آگے راستہ نہ تھا، انہوں نے صرف اس قدر کہا، خدا تم پر رحم کرے، اس شخص نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو ربیع تھے انہیں دیکھ کر وہ فرط ندامت سے رونے لگا۔ [26]

مجمعوں سے احتراز ترميم

ربیع نہایت تنہائی پسند تھے، نہ کہیں آتے جاتے تھے، نہ کسی مجمع میں بیٹھتے تھے، امام شعبی کا بیان ہے کہ ربیع جب سے سن شعور کو پہنچے نہ کسی مجلس میں بیٹھے نہ کسی شاہراہ پر گئے، اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتےتھے کہ میں اسے پسند نہیں کرتا کہ میں کسی مقام پر جاؤں اوروہاں کوئی ایسی چیز دیکھوں جس میں شہادت میں بلایا جاؤں اورشہادت نہ دے سکوں، یاکسی گرانبار آدمی کو دیکھوں اوراس کی مدد نہ کرسکوں یا مظلوم کو دیکھوں اوراس کی اعانت نہ کرسکوں۔ [27]

سکوت وخاموشی ترميم

وہ گھر میں بھی عموماً خاموش رہتے تھے، بہت کم باتیں کرتے تھے، فضول کلمہ تو زبان سے نکلتا ہی نہ تھا، ایک شخص کا جو آپ کی خدمت میں بیس سال تک رہا تھا، بیان ہے کہ میں نے بیس سال کی طویل مدت میں ان کی زبان سے کوئی ایسا کلمہ نہیں سنا جس پر نکتہ چینی کی جاسکے [28] اسی شخص کا بیان ہے کہ میں نے بیس سال کے عرصہ میں ربیع کو کلمۂ خیر کے علاوہ دوسرا کلمہ زبان سے نکالتے ہوئے نہیں دیکھا [29]ایک تیمی کا بیان ہے کہ میں دو سال تک ربیع کے پاس بیٹھا، اس دوران میں انہوں نے مجھ سے انسانوں کے دنیاوی حالات کے متعلق کوئی سوال نہیں کیا، صرف ایک مرتبہ اتنا پوچھا کہ تمہاری ماں زندہ ہیں اور تمہارے محلہ میں کتنی مسجد یں ہیں [30] وہ دوسروں کو بھی فضول گوئی سے منع کرتے تھے اورفرماتے تھے کہ باتیں کم کیا کرو، اگر ہوسکے تو فضول باتوں کے بجائے ‘ سبحان اللہ، الحمد للہ، لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر’ کا ورد کیا کرو، لوگوں کو اچھی باتیں کرنے کی تلقین کیا کرو، بری باتوں سے روکا کرو، قرآن پڑھا کرو، خدا سے بھلائی کی درخواست کیا کرو، اورشر سے پناہ مانگا کرو۔[31]

روى الربيع عن عبد اللہ۔ قال هُبيرة بن حَزِيمة: لما قُتل الحُسين أتيتُ الربيع بن خثيم، فأخبرتہ، فقرأ هذہ الآية: {الَّلهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَاْلأرْضِ عَالِمَ اْلغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُواْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ} [سورة الزمر: 46] ربیع نے عبداللہ کی سند سے بیان کیا۔ ہبیرہ بن حزیمہ کہتے ہیں: جب حسین شہید ہوئے تو میں نے ربیع بن خثیم کو خبر دی تو اس آیت کی تلاوت کی: {بار الہا اے آسمانوں اور زمین کے خالق، اے اے ظاہر و غیب کو جاننے والے تم ہی اپنے بندوں کے درمیان میں حکم کرتے ہو جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں [الزمر: 46]۔

دوسروں پر اخلاق کا اثر ترميم

ربیع گوخاموش اورعزلت نشین تھے، لیکن پھول کی خوشبو اورآفتاب کی روشنی قید نہیں کی جاسکتی، اس لیے ان کی گوشہ گیری کے باوجود ان کی نکہتِ اخلاق ہر طرف پھیل گئی اورہر شخص ان کے اخلاق فضائل سے متاثر ہوگیا، شفیق روایت کرتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن مسعودؓ کے چند اصحاب کے ساتھ ربیع کی ملاقات کو گئے ایک شخص نے راستہ میں پوچھا کہاں جاتے ہو، ہم نے کہا ربیع سے ملنے کے لیے، اس نے کہا تم لوگ ایسے شخص کےپاس جارہے ہو کہ جب وہ کوئی بات کہتا ہے تو جھوٹ نہیں کہتا، جب وہ وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی نہیں کرتا، اگر اس کے پاس امانت رکھو تو اس میں خیانت نہیں کرتا۔ [32] کسی انسان کی حقیقی عظمت اس کے معاصرین کا اعتراف ہے، ربیع کے معاصرین ان سے اتنا متاثر تھے کہ ان کے مقابلہ میں ذہنی بڑائی بھی اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہ کرتے تھے، ایک شخص نے ابو وائل سے پوچھا کہ تم بڑے ہو، یاربیع، انہوں نے جواب دیا کہ سن میں ان سے بڑا ہو؟ لیکن وہ عقل میں مجھ سے بڑے ہیں۔ [33]

توکل علی اللہ ترميم

توکل اوراعتماد علی اللہ کے اصل معنی ہیں کوشش کرکے کسی کام کی کامیابی اورناکامیابی کو خدا کے حوالہ کردینا، لیکن توکل کا ایک درجہ اس سے بھی بلند ہے جو صرف خاصانِ خدا کا حصہ ہے، وہ یہ کہ دنیاوی وسائل ہی نہ اختیار کیے جائیں، اوراس کو بھی خدا کے حوالہ کردیا جائے، ربیع اسی درجہ قصوی پر فائز تھے، کہ وہ موت وزیست کے سوال کے موقع پر دنیاوی وسائل نہ اختیار کرتے تھے، فالج جیسے موذی اورزندہ درگور کردینے والے مرض میں مبتلا تھے، لیکن کسی طرح علاج نہیں کرتے تھے، لوگ ان سے کہتے، کاش آپ علاج کرتے فرماتے، عادوثمود اوراصحاب رس سب گزر گئے، ان کے درمیان میں بہت سے قرن تھے، اوران میں علاج کرنے والے بھی موجود تھے، لیکن نہ تو علاج کرنے والے ہی باقی رہ گئے اورنہ علاج کرانے والے سب مٹ گئے۔ [34]

وفات ترميم

اس تو کل کا نتیجہ یہ ہوا کہ بالآخر فالج نے مرض الموت کی شکل اختیار کرلی، دم آخر انہوں نے لوگوں کے روبرو یہ اعترافات کیے کہ میں اپنے نفس پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں، وہ اپنے نیک بندوں کی شہادت، انہیں بدلہ دینے اورثواب دینے کے لیے کافی ہے، میں خدا کی ربوبیت، دین اسلام، محمدﷺ کی نبوت اوررسالت اورقرآن کی امامت سے راضی ہوں اور اپنی ذات اوراس شخص سے جو میری اطاعت کرے، اس بات پر راضی ہوں کہ ہم سب عابدین کے زمرہ میں خدا کی عبادت کریں اورحمد کرنے والوں میں اس کی حمد کریں اورمسلمانوں کی خیر خواہی کریں [35] ان وصیتوں کے بعد واصل بحق ہوئے، یہ کوفہ پر عبیداللہ بن زیاد کی ولایت کا زمانہ تھا۔[36]

حوالہ جات ترميم

  1. (تہذیب التہذیب :3/242)
  2. (ابن سعد:6/127)
  3. (ابن سعد:6/128)
  4. (سورہ ص:86)
  5. (تذکرہ الحفاظ:1/50)
  6. (تذکرہ الحفاظ:1/50)
  7. (ابن سعد:6/133)
  8. (ابن سعد:6/133)
  9. (تہذیب التہذیب:3/242)
  10. (تذکرہ الحفاظ:1/50)
  11. (ابن سعد :6/127)
  12. (تہذیب التہذیب:3/242)
  13. (ابن سعد:6/131)
  14. (تہذیب الکمال:115)
  15. (الجاثیۃ:21)
  16. (ابن سعد:2/23)
  17. (ایضاً:6/132)
  18. (اٰل عمران:92)
  19. (ابن سعد:6 )
  20. (ایضاً:6/131)
  21. (ابن سعد:6/131)
  22. (ایضاً)
  23. (ایضا:129)
  24. (ابن سعد:131)
  25. (ایضاً:127)
  26. (ایضاً:130)
  27. (ابن سعد:6/129)
  28. (ابن سعدایضاً)
  29. (ابن سعد ایضاً:128)
  30. (ابن سعد ایضاً:129)
  31. (ابن سعدایضاً: )
  32. (ابن سعد:6/130)
  33. (ابن سعد:6/130)
  34. (ابن سعد ایضاً:134)
  35. (ابن سعد:6/134)
  36. (ابن سعد:2/134)