مرکزی مینیو کھولیں
رمسيس ثانی
RamsesIIEgypt.jpg 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1303 ق م  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1213 ق م  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بر رمسیس  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات صلابت عصیدہ  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن وادی ملوک  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت قدیم مصر  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قد 1.9 میٹر  ویکی ڈیٹا پر قد (P2048) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد منفتاح بن رمسیس ثانی  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
فرعون   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
1278 ق م  – 1212 ق م 
عملی زندگی
پیشہ ریاست کار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان مصری زبان  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان مصری زبان  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

رمسيس ثانی یا رعمسیس دوم (انگریزی: Ramesses II) قدیم مصر کے اُنیسویں شاہی خاندان کا تیسرا فرعون تھا۔ اس نے ایتھوپیا اور شام کو دوبارہ فتح کیا۔ شام کی تسخیر کے سلسلے میں اسے حیتوں سے ہولناک جنگیں لڑنی پڑیں۔ اس نے اپنے دورِ حکومت میں کئی شاندار عمارتیں بنوائیں جن میں ابوسمبل کے مقام پر ایک عالیشان مندر قابلِ ذکر ہے۔

قرآن اور فرعونترميم

قرآن مجید میں حضرت موسیٰ کے قصّے کے سلسلہ میں دو فرعونوں کا ذکر آتا ہے۔ ایک وہ جس کے زمانہ میں آپ پیدا ہوئے اور جس کے گھر میں آپ نے پرورش پائی۔ دوسرا وہ جس کے پاس آپ اسلام کی دعوت اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ لے کر پہنچے اور وہ بالآخر بحیرہ احمر میں غرق ہوا۔ موجودہ زمانہ کے محققین کا عام میلان اس طرف ہے کہ پہلا فرعون رعمسیس دوم تھا جس کا زمانہ حکومت سن 1292 قبل مسیح سے سن 1225 قبل مسیح تک رہا۔ اور دوسرا فرعون منفتہ یا منفتاح تھا جو اپنے باپ رعمسیس دوم کی زندگی ہی میں شریک حکومت ہوچکا تھا اور اس کے مرنے کے بعد سلطنت کا مالک ہوا۔ یہ قیاس بظاہر اس لحاظ سے مشتبہ معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی تاریخ کے حساب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تاریخ وفات 1272 قبل مسیح ہے۔ لیکن بہر حال یہ تاریخی قیاسات ہی ہیں اور مصری، اسرائیلی اور عیسوی جنتریوں کے تطابق سے بالکل صحیح تاریخوں کا حساب لگانا مشکل ہے۔[1] رعمیسس دوم کا تعلق مصر کے انیسویں حکمران خاندان سے تھایہ شاہ سیتی(Seti) کا بیٹا تھا۔ اس نے 67 سال حکومت کی۔ اس کی 110 سال عمر تھی اور وہ بیمار ہو کر فطرتی موت مرا۔ اس کا جسم نہائت لاغر تھاجبکہ منفتاح کی لاش جو بحر قلزم میں غرق ہوا صحت مند تھی اسے کوئی بیماری نہ تھی۔ رعمیسس دوم کی حنوط شدہ لاش انیسویں صدی کے اواخر میں باب الملوک کی وادی کی کھدائی کے دوران برآمد ہوئی۔ یہ لاش ایک چوبی تابوت میں رکھی ہوئی تھی اس پر تین کتبے کندہ تھے۔ اس پر بعض ماہرین آثار قدیمہ کو شک تھا کہ یہ کس کی لاش ہے۔ اس شک کو دور کرنے کے لیے میپیرو(Maepero) نے اوپر لپٹے ہوئے کپڑے کو ہٹایااور لاش کے سینے پر روشنائی سے لکھا ہوا کتبہ دیکھاجس نے سارے شکوک دور کر دیے کہ یہ رعمیسس دوم کی ہی لاش ہے۔ یکم جون 1886ء کو خدیو توفیق کی موجودگی میں اس لاش کو کھولا گیا۔ یہ لاش اب قاہرہ کے عجائب خانے میں محفوظ ہے [2]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. تفسیر تفہیم القرآن، سید ابوالاعلی مودودی،سورۃالاعراف آیت104 حاشیہ نمبر 85
  2. مقامات انبیا کا تصویری البم،ارسلان بن اختر میمن،صفحہ 24،مکتبہ ارسلان کراچی