ریاست جموں و کشمیر

ریاست جموں کشمیر اقصائے تبتہا کی تخلیق اور تقسیم تک کے حقائق ۔

ریاست جموں و کشمیر (دور حکومت) 1846ء سے 1947ء تک متحدہ ہندوستان میں ایک آزاد و خودمختار ریاست تھی جو 1846ء میں پہلی انگریز سکھ جنگ کے بعد تشکیل دی گئی جب پنجاب کے سکھوں نے انگریز کو 75لاکھ تاوان کی مد میں کشمیر انگریز کو بیچ دیا تو جموں کے مہاراجہ گلاب سنگھ نے انگریز کو 75لاکھ ادا کر کے ایک معائدہ کیا جو امرتسر میں ہوا اس معائدے کے تحت کشمیر کے ان علاقوں کو جو سکھوں نے انگریز کو تاوان میں دے دیے تھے گلاب سنگھ نے واپس لے کر جموں کے ساتھ ملا کر ریاست جموں کشمیر کی بنیاد رکھی یاد رہے یہ معائدہ 16مارچ 1846ء کو امرتسر میں ہوا۔

ریاست جموں و کشمیر
1846–1949
NWFP-Kashmir1909-a.jpg
کشمیر کا نقشہ
تاریخی دورنیا سامراج
• 
1846
• 
1949
مابعد
آزاد کشمیر
جموں و کشمیر
گلگت بلتستان
آج یہ اس کا حصہ ہے:Flag of India.svg بھارت
Flag of Pakistan.svg پاکستان
Flag of the People's Republic of China.svg چین

1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے وقت تمام ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں کسی ایک سے الحاق کر لیں یا اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھیں،جموں کشمیرکے مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست جموں کشمیر کو ایک آزاد و خودمختار رکھنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان اور بھارت دونوں کی حکومتوں کو خطوط لکھے اور وہ {مہاراجہ آف جموں و کشمیر ہری سنگھ} ریاست جموں کشمیر کو خودمختار رکھنا چاہتا ہےا ور آپ دونوں مملکتوں سے معائدے کرنا چاہتا ہے پاکستان نے مہاراجہ کے ان خطوط کا جواب دے دیا اور یوں 16اگست 1947ء کو ریاست جموں کشمیر کے مہاراجہ اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک معائدہ ہوا جسے معائدہ جاریہ کہا جاتا ہے۔ اس معائدے کے تحت پاکستان کو ڈاک ,تجارت اور مواصلات ایسے شعبے سونپے گئے جب کہ ریاست جموں کشمیر اندرون طور مکمل خودمختار رہے گی۔ پاکستان نے 2ماہ چھ دن کے بعد یعنی 22اکتوبر 1947ء کو اس معائدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست جموں کشمیر پر مظفرآباد پونچھ سے حملہ کیا گیا اور گلگت میں بھی ریاست جموں کشمیر کی حکومت کے خلاف بغاوت کروا دی۔ یوں پاکستان نے ریاست کے ساتھ کیے 16اگست کے معائدہ جاریہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست میں قتل و خون  کی ہولی کھیلی۔ مہاراجہ جموں کشمیر نے جب دیکھا کہ پاکستان معائدہ توڑ چکا ہے اور ریاست میں قتل خون کر رہا ہے تو اس نے بھارت سے مدد طلب کی۔ بھارت نے مدد کے لیے الحاق کی شرط رکھی جسے مہاراجہ نے عارضی الحا ق کے طور پر قبول کیا اور یوں 26اکتوبر 1947ء کو ریاست جموں کشمیر اور حکومت بھارت کے درمیان معائدہ ہوا اور انہی تین چیزوں پر یہ معائدہ ہوا جو 16اگست 47ء کو پاکستان کے ساتھ معائدہ جاریہ کی شکل میں تھا۔ اور مزید اس معائدے میں مہاراجہ جموں کشمیر نے لکھا کہ یہ ایک عارضی معائدہ ہےا ور امن قائم ہونے کے بعد ریاست کے عوام اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ اس دوران بھارت جموں کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے گیا، جہاں ایک کمیشن کے ذریعے جموں کشمیر جس نے پاکستان کو حملہ آور ڈکلیئر کر کے اسے ریاست سے اپنی ساری افواج نکالنے کا کہا گیا اور بھارت کو اپنی آدھی فوج ریاست میں امن عامہ کی بحالی کے لیے ریاست میں رکھنے کا کہا گیا اور جموں کشمیرمیں استصواب رائے کا فیصلہ کیا گیا جس کو اس وقت کے پاکستان اور بھارت نے تسلیم کیا پاکستان اپنی افواج کو نکالنے کے وعدے سے منحرف ہوا اور ریاست کی مسلم اکثریت نے بھی ریاست کی بحالی کے بجائے الحاق پاکستان کی تحریک چلائی ۔ پاکستان نے مقبول بٹ کے زریعے وادی کشمیر میں پراکسی وار کی بنیاد رکھی جس کو بظاہر آزادی کی تحریک کہا گیا مقبول بٹ نے مہاراجہ ہری سنگھ کے عارضی معائدے الحاق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر صوبے میں تقسیم ریاست کی پاکستانی جنگ چھیڑی مقبول بٹ کو پاکستان نے استعمال کرنے کے بعد اپنے دوسرے ایجنٹ امان اللہ خان سے بھارتی سفارتکار کو اغوا کے بعد قتل کروایا اور یوں پاکستان نے مقبول بٹ کا پتہ صاف کرنے کی چال چلی مقبول بٹ کو ایک بنک مینجر کے قتل کے جرم میں پھانسی دے دی گئی تھی ۔ مقبول بٹ کے بعد پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کے مٹھی بھر قوم پرستوں نے مقبول بٹ کو قائد مانتے ہوئے خود مختاری کی کھوکھلی تحریک چلائی جو کہ وہیں پر دم توڑ گئ

لیکن اب پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر میں این ای پی نامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے بحالی ریاست جموں کشمیر اقصائے تبتہا کا نظریہ زور پکڑ رہا ھے جس میں نوجوان دن بدن شامل ہو رھے ھیں

مہاراجہ ہری سنگھ کے نظرئے کے مطابق بحالی ریاست کا نظریہ یقینی طور پر کامیاب ہوتا نظر آ رہا ھے۔

شمار نام دور
1. گلاب سنگھ 1846–1857
2. رنبیر سنگھ 1857–1885
3. پرتاب سنگھ 1885–1925
4. ہری سنگھ 1925–1949

حوالہ جاتترميم