جموں و کشمیر

بھارت کے زیر انتظام کشمیر

جموں و کشمیر (کشمیر یا بھارت کے زیر انتظام کشمیر) بھارت کی سب سے شمالی ریاست تھی جس کا بیشتر علاقہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے پر پھیلا ہوا تھا۔ جموں و کشمیر کی سرحدیں جنوب میں ہماچل پردیش اور پنجاب، بھارت، مغرب میں پاکستان اور شمال اور مشرق میں چین سے ملتی تھیں۔ پاکستان میں جموں و کشمیر کو اکثر مقبوضہ کشمیر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر تین حصوں جموں، وادی کشمیر اور لداخ میں منقسم تھے۔ سری نگر اس کا گرمائی اور جموں سرمائی دار الحکومت تھا۔ وادی کشمیر اپنے حسن کے باعث دنیا بھر میں مشہور تھا جبکہ مندروں کا شہر جموں ہزاروں ہندو زائرین کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ لداخ جسے "تبت صغیر" بھی کہا جاتا ہے، اپنی خوبصورتی اور بدھ ثقافت کے باعث جانا جاتا ہے۔ سابقہ ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت ہے تاہم ہندو، بدھ اور سکھ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔

جموں اور کشمیر
سابقہ ریاست
1954ء–2019ء
Flag of جموں و کشمیر
Flag
نشان of جموں و کشمیر
نشان
Kashmir region 2004.jpg
جموں و کشمیر کا نقشہ
دار الحکومتسری نگر (مئی-اکتوبر)
جموں (نومبر-اپریل)[1]
رقبہ
 • متناسقات33°27′N 76°14′E / 33.45°N 76.24°E / 33.45; 76.24متناسقات: 33°27′N 76°14′E / 33.45°N 76.24°E / 33.45; 76.24
حکومت
گورنر 
• 1954–ء1965ء بطور صدرِ ریاست؛ 1965ء–1967ء
کَرن سنگھ (پہلا)
• 2018ء–2019ء[2]
ستیا پال ملک (آخری)
وزیر اعلٰی 
• 1947ء–1948ء بطور وزیر اعظم
مہر چند مہاجن (پہلا)
• 2016ء–2018ء[3]
محبوبہ مفتی (آخری)
مقننہمقننہ جموں و کشمیر
• ایوان بالا
جموں و کشمیر ودھان پریشد (36 نشستیں)
• ایوان زیریں
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی (89 نشستیں)
تاریخ 
• 1954ء کے صدارتی حکم کے نفاذ کے بعد بھارت کی ریاست کے طور پر قائم ہوئی
14 مئی 1954ء
• تنظیم نو قانون کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا گیا
31 اکتوبر 2019ء
سیاسی ذیلی تقسیمات22 اضلاع
ماقبل
مابعد
جموں و کشمیر (نوابی ریاست)
جموں و کشمیر (یونین علاقہ)
لداخ

کشمیر دو جوہری طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے کا باعث بنا ہوا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باعث تقسیم ہند کے قانون کی رو سے یہ پاکستان کا حصہ ہے جبکہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ علاقہ عالمی سطح پر متنازع قرار دیا گیا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جس میں وادی کشمیر میں مسلمان 95 فیصد، جموں میں 28 فیصد اور لداخ میں 44 فیصد ہیں۔ جموں میں ہندو 66 فیصد اور لداخ میں بودھ 50 فیصد کے ساتھ اکثریت میں ہیں۔

5 اگست 2019ء کو حکومت ہند نے آئین ہند کی دفعہ 370 کو ختم کرنے اور ریاست کو دو یونین علاقوں میں منقسم کرنے کا اعلان کیا – جموں و کشمیر اور لداخ۔ اس کے بعد کرفیو نافذ، ریاست بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل اور موبائل کنیکشن بند اور مقامی سیاسی لیڈروں کو گرفتار کیا گیا۔[4]

نگار خانہترميم

حوالہ جاتترميم

  1. Desk، The Hindu Net (8 May 2017). "What is the Darbar Move in J&K all about?". The Hindu (بزبان انگریزی). 10 نومبر 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 فروری 2019. 
  2. "Satya Pal Malik sworn in as Jammu and Kashmir governor". The Economic Times. Press Trust of India. 23 August 2018. 23 اگست 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 اگست 2018. 
  3. "BJP-PDP alliance ends in Jammu and Kashmir LIVE updates: Mehbooba Mufti resigns as chief minister; Governor's Rule in state". Firstpost. 19 June 2018. اخذ شدہ بتاریخ 19 جون 2018. 
  4. "Jammu Kashmir Article 370: Govt revokes Article 370 from Jammu and Kashmir, bifurcates state into two Union Territories". The Times of India (بزبان انگریزی). 2019-08-05. اخذ شدہ بتاریخ 05 اگست 2019.