ریزرو بینک آف انڈیا

بھارت کا مرکزی بینک

ریزرو بینک آف انڈیا (انگریزی: Reserve Bank of India) بھارت کا مرکزی بینک ہے اور تمام بھارتی بینک اس کے زیر انتظام ہوتے ہیں۔ ریزرو بینک بھارت کی معیشت کا اہم حصہ ہے۔

ریزرو بینک آف انڈیا
भारतीय रिज़र्व बैंक
Seal of the Reserve Bank of India.svg
ہیڈکوارٹر ممبئی، مہاراشٹر
متناسقات متناسقات: 18°55′58″N 72°50′13″E / 18.932679°N 72.836933°E / 18.932679; 72.836933
قیام 1 اپریل 1935؛ 84 سال قبل (1935-04-01)
گورنر ارجت پٹیل
کرنسی بھارتی روپیہ (₹)
ذخائر امریکی ڈالر363.00 billion[1][2]
Base borrowing rate 6.25%[3]
Base deposit rate 4.00%(market determined)[4]
ویب سائٹ https://rbi.org.in/

1 اپریل سن 1935ء کو ریزرو بینک آف انڈیا ایکٹ 1934ء کے تحت ریزرو بینک کا قیام عمل میں آیا۔ ابتدا میں اس کا مرکزی دفتر کلکتہ میں تھا جو سن 1937ء میں بمبئی منتقل ہو گیا۔ پہلے یہ ایک نجی بینک تھا لیکن سنہ 1949ء میں اسے حکومت ہند کے سرکاری ادارہ کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ ارجت پٹیل ریزرو بینک کے موجودہ گورنر ہیں جنہوں نے 4 ستمبر 2016ء کو یہ عہدہ سنبھالا۔ پورے بھارت میں ریزرو بینک کے کل 22 علاقائی دفاتر ہیں جن میں سے زیادہ تر ریاستوں کے دار الحکومتوں میں واقع ہیں۔

کرنسی آپریشنل اور کالے دھن کی ناقص معیشت کو قابو میں رکھنے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا نے 31 مارچ 2014ء تک سنہ 2005ء سے پہلے جاری کئے گئے تمام سرکاری نوٹوں کو واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

قیامترميم

ریزرو بینک آف انڈیا کا قیام بھارتی ریزرو بینک ایکٹ 1934ء کی دفعات کے تحت 1 اپریل 1935ء کو ہوا۔

ریزرو بینک کا مرکزی دفتر ابتدا میں کلکتہ میں تھا جسے 1937ء میں مستقل طور پر بمبئی میں منتقل کر دیا گیا۔ مرکزی دفتر وہ دفتر ہے جہاں گورنر ہوتا ہے اور پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔

اگرچہ برطانوی راج کے دوران میں یہ نجی ملکیت والا بینک تھا لیکن تقسیم ہند کے بعد 1 جنوری 1949ء میں اس کو قومیا دیا گیا، اور بعد ازاں اس پر حکومت ہند کا مکمل اختیار ہے۔

اہم کامترميم

ریزرو بینک آف انڈیا کی تجویز میں بینک کے اصل کام اس طرح بیان کئے گئے ہیں:

  • مالیاتی پالیسی تیار، اس کا نفاذ اور نگرانی کرنا۔
  • مالیاتی نظام کی قوانین سازی اور ان کی نگرانی کرنا۔
  • غیر ملکی کرنسی کا انتظام کرنا۔
  • کرنسی جاری کرنا، اس کا تبادلہ کرنا اور قابل عمل نہ رہنے پر ان کو تباہ کرنا۔
  • حکومت کے بینکر اور بینکوں کے بینکر کے طور پر کام کرنا۔
  • ساکھ کا خیال رکھنا۔
  • کرنسی کے لین دین پر قابو رکھنا۔

مجلس نظامتترميم

ریزرو بینک کی تمام کارروائیاں مرکزی مجلس نظامت کے ذریعہ انجام پاتی ہیں۔ ریزرو بینک ایکٹ کے مطابق اس مجلس کک تقرری حکومت ہند کی جانب سے چار سال کے لیے کی جاتی ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. . BS Reporter http://web.archive.org/web/20181225140902/https://www.business-standard.com/article/finance/forex-reserves-fall-by-3-43-bn-to-351-92-bn-115090400865_1.html. مؤرشف من الأصل في 25 دسمبر 2018.  الوسيط |archiveurl= و |archive-url= تكرر أكثر من مرة (مساعدة); الوسيط |archivedate= و |archive-date= تكرر أكثر من مرة (مساعدة); مفقود أو فارغ |title= (مساعدة)
  2. Reserve Bank of India. Rbi.org.in (2005-02-07). Retrieved on 2014-05-21.
  3. Reserve Bank of India – India's Central Bank. Rbi.org.in.
  4. "Reserve Bank of India – India's Central Bank". rbi.org.in. مورخہ 08 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ.