بھارتی روپیہ (انگریزی: Indian Rupee، اُردو: روپیہ، ہندی: रुपया)(کوڈ:INR) بھارت میں استعمال ہونے والے زرمبادلہ کی اکائی ہے۔ بھارتی روپیہ بھارت کے مرکزی بینک کی تصدیق سے جاری کیا جاتا ہے۔ عام طور پر بھارتی روپیہ کے لیے انگریزی میں Rs مستعمل تھا، لیکن اب اس کا نیا شارہ ₹ استعمال ہوتا ہے۔ بھارتی روپیہ کا ISO 4217 کوڈ INR مقرر کیا گیا ہے۔ 5 مارچ، 2009ء کو بھارتی حکومت نے بھارتی روپیہ کے لیے شارہ منتخب کرنے کے لیے ایک انعامی مقابلے کا اعلان کیا ہے۔ جدید بھارتی روپیہ کو سو پیسے کی اکائیوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کی اکائی پیسہ ہے۔
بھارت کے مختلف حصوں میں بھارتی روپیہ کو مختلف تلفظ کے ساتھ لکھا اور پکارا جاتا ہے، جیسے اردو میں روپیہ، ہندی میں روپیا، تیلگو میں روپائی، تامل میں روبے، مالیالم میں روپا، مراٹھی میں روپیے اور سنسکرت میں روپیاکم۔ جنوبی ایشیا میں کرنسی کے لیے استعمال ہونے والا لفظ روپیہ دراصل چاندی کے سکے کے لیے قدیم زمانہ میں استعمال ہوتا تھا۔ بنگلہ میں اسے ٹکہ بھی کہا جاتا ہے۔

بھارتی روپیہ
Indian rupee banknotesCoins of the Indian rupee
آئیسو4217 کوڈ
کوڈINR
نام اور قیمت
ذیلی اکائی
1100paisa
علامت
paisa
بینک نوٹ
 عام استعمال10, 20, 50, 100, 200, 500
 کم استعمال1, 2, 5
سکہ
 عام استعمال1, 2, 5, 10,
 کم استعمال50p 20
آبادیات
سرکاری صارفین
غیرسرکاری صارفین
اجرا
مرکزی بینکریزرو بینک آف انڈیا[5]
طابعSecurity Printing and Minting Corporation of India Limited[6]
 ویب سائٹspmcil.com
ٹکسالIndia Government Mint[6]
 ویب سائٹspmcil.com
مقررہ قیمت
افراطِ زر4.4% (2017–18)
 ماخذRBI – Annual Inflation Report
 قاعدہCPI[8]
مربوط معسانچہ:Flagd Bhutanese ngultrum (at par)
سانچہ:Flagd نیپالی روپیہ (₹1 = रू1.6)[7]
1000 بھارتی روپیے کا نوٹ
بھارتی روپے کی علامت

ضروری معلومات

ترمیم
  1. مختلف ملکوں میں کرنسی کے مختلف نام رائج ہیں۔ بین الاقوامی بازار میں بھارت کی کرنسی کا نام روپیہ (₹) ہے۔
  2. حفاظتی وجوہات کی وجہ سے نوٹ کے سلسلہ وار نمبروں میں I، J، O، X، Y، Z حروف نہیں ہوتے۔
  3. ہر ہندوستانی نوٹ پر کسی نہ کسی چیز کی تصویر شائع ہوتی ہے جیسے 20 روپے کے نوٹ پر انڈمان لینڈ کی تصویر ہے، 10 روپے کے نوٹ پر ہاتھی، گینڈا اور شیر چھپا ہوا ہے، جبکہ 100 روپے کے نوٹ پر پہاڑ اور بادل کی تصویر ہے۔ ان کے علاوہ 500 روپے کے نوٹ پر آزادی کی تحریک سے منسلک 11 مورتیوں کی تصویر چھپی ہے۔
  4. ہندوستانی نوٹ پر اس کی قیمت 15 مختلف زبانوں میں لکھی جاتی ہے۔
  5. ہندوستان کے 1 ₹ میں 100 پیسے ہیں، یہ بات سنہ 1957ء میں نافذ کی گئی تھی۔ اس سے پہلے روپیہ 16 آنے میں تقسیم کیا جاتا تھا۔
  6. ہندوستان میں آر بی آئی نے جنوری 1938ء میں پہلی بار 5 ₹ کی کاغذ كرنسی شائع کی تھی۔ جس پر کنگ جارج -6 کی تصویر تھی۔ اسی سال 10،000 ₹ کا نوٹ بھی چھاپا گیا تھا لیکن 1978ء میں اسے مکمل طور پر بند کر دیا گيا۔
  7. آزادی کے بعد پاکستان میں بھی اس وقت تک ہندوستانی کرنسی کا استعمال کیا گیا جب تک وہ اپنی ضرورت کے مطابق نوٹ نہیں چھاپ سکے۔
  8. ہندوستانی نوٹ کسی عام کاغذ کے نہیں، بلکہ كاٹن سے بنے ہوتے ہیں، یہ اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ آپ نئے نوٹ کے دونوں سروں کو پکڑ کر اسے پھاڑ نہیں سكتے۔
  9. ایک وقت ایسا تھا جب بنگلہ دیش بلیڈ بنانے کے لیے ہندوستان سے 5 روپے کے سکے منگواتا تھا۔ 5 روپے کے ایک سکے سے 6 بلیڈ بنتے تھے۔ 1 بلیڈ کی قیمت 2 روپے ہوتی تھی تو بلیڈ بنانے والے کو اچھا فائدہ ہوتا تھا۔ اسے دیکھتے ہوئے حکومت ہند نے سکے بنانے والی دھات کو بدل ديا۔
  10. آزادی کے بعد سکے تانبے کے بنتے تھے۔ اس کے بعد 1964 میں المونیم کے اور 1988 سے سٹین لیس سٹیل کے بننے لگے۔
  11. ہندوستانی نوٹ پر مہاتما گاندھی کی جو تصویر چھپتی ہیں وہ اس وقت کھینچی گئی تھی جب وہ برما اور بھارت کے برطانوی سیکریٹری فریڈرک پی لارنس کے ساتھ کولکتہ کے وائسرائے ہاؤس میں ملاقات کرنے گئے تھے۔ یہ تصویر 1996ء میں نوٹوں پر چھپني شروع ہوئی۔ اس سے پہلے مہاتما گاندھی کی جگہ اشوک چکر ہوتا تھا۔
  12. ہندوستان کے 500 اور 1،000 روپے کے نوٹ نیپال میں نہیں چلتے۔
  13. ہندوستان میں 500 ₹ کا پہلا نوٹ 1987 میں اور 1،000 ₹ پہلے نوٹ سن 2000 میں بنایا گیا تھا۔
  14. بھارت میں 75، 100 اور 1،000 ₹ کے   سکے بھی چل چکے ہیں۔
  15. ہندوستان میں 1 ₹ کا نوٹ ہندوستانی حکومت کی طرف سے اور 2 سے لے کر 1،000 ₹ تک کے نوٹ آر بی آئی کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں۔
  16. ایک مرتبہ بدعنوانی سے لڑنے کے لیے 0 ₹ کے نوٹ 5th pillar نام کے ایک غیر سرکاری ادارے کی طرف سے جاری کیے گئے تھے۔
  17. ہندوستان میں رائج 10 ₹ کے سکے کو بنانے میں 6.10 ₹ کی لاگت آتی ہے۔
  18. نوٹوں پر سیریل نمبر اس لیے ڈالا جاتا ہے تاکہ آر بی آئی کو پتہ چلتا رہے کہ اس وقت مارکیٹ میں کتنی کرنسی ہے۔
  19. روپیہ بھارت کے علاوہ انڈونیشیا، ماریشس، نیپال، پاکستان اور سری لنکا کی بھی کرنسی ہے۔
  20. ریزرو بنک آف انڈیا کے مطابق ہندوستان ہر سال 2،000 کروڑ روپے کے كرنسی نوٹ چھاپتا ہے۔
  21. کمپیوٹر پر ₹ ٹائپ کرنے کے لیے 'لیے Ctrl + Shift + $' کے بٹن کو ایک ساتھ دبانا پڑتا ہے۔
  22. ₹ کے اس نشان کو 2010 میں عروج کمار نے بنایا تھا۔ اس کے لیے ان کو 2.5 لاکھ روپيے کا انعام بھی ملا تھا۔
  23. ہر سکے پر سن کے نیچے ایک خاص نشان بنا ہوتا ہیں آپ اس نشان کو دیکھ کر پتہ لگا سکتے ہیں کہ یہ سکہ کہاں بنا ہے: * : ممبئی - ہیرا [◆]* : نوئیڈا - نقطہ [.]* : حیدرآباد - ستارہ [★]* : كولكاتہ - کوئی نشان نہیں

24. ایک نوٹ چھاپنے کا خرچ* : ایک کی نوٹ = 1.14 ₹* : دس کی نوٹ = 0.66 ₹* : بیس کی نوٹ = 0.94 ₹* : پچاس کی نوٹ = 1.63 ₹* : سو کی نوٹ = 1.20 ₹* : پانچ سو کی نوٹ = 2.45 ₹* : ایک ہزار کی نوٹ = 2.67₹

25. اگر آپ کے پاس آدھے سے زیادہ یعنی (51 فیصد) پھٹا ہوا نوٹ ہے تو بھی آپ بینک میں جا کر اسے تبدیل کر سکتے ہے۔

26. روپیہ، امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہے لیکن کچھ ملک ایسے ہیں، جن کی كرنسی کے مقابلے میں بھارتی روپیہ کی قیمت زیادہ ہے۔* : نیپال (1 ₹ = 1.60 نیپال روپیہ)* : آئس لینڈ (1 ₹ = 1.94 کرون)* : شری لنکا (1 ₹ = 2.10 سری لنکا روپیہ)* : هنگری (1 ₹ = 4.27 پھورٹ)* : كمبوڈيا (1 ₹ = 62.34 ریال)* : پیراگوے (1 ₹ = 84.73 گارني)* : انڈونیشیا (1 ₹ = 222.58 انڈونیشیا روپیہ)* : بیلاروس (1 ₹ = 267.97 بیلاروسی ربل)* : ويتنام (1 ₹ = 340.39 ویتنامی ڈنگ)[9]

قدر و قیمت

ترمیم
  • 1 روپیہ = 16 آنہ (بعد ازاں 100 نئے پیسے)
  • 1 آدھا روپیہ = 8 آنہ یا 12 روپیہ (بعد ازاں 50 نئے پیسے)
  • 1 پوالا = 4 آنہ یا 14 روپیہ (بعد ازاں 25 نئے پیسے)
  • 1 بیدا = 2 آنہ یا 18 روپیہ (بعد ازاں مساوی 12.5 نئے پیسہ)
  • 1 آنہ = 116 روپیہ (بعد ازاں مساوی to 6.25 نئے پیسے)
  • 1 پراکا = 12 آنہ (بعد ازاں مساوی 3.125 نئے پیسے)
  • 1 کنی (پیس) = 14 آنہ (بعد ازاں مساوی 1.5625 نئے پیسے)
  • 1 دمڑی (پئی) = 112 آنہ (بعد ازاں مساوی 0.520833 نئے پیسے)
  • 1 روپیہ = 16 آنہ
  • 1 اٹھانی (دھیلی) = 12 روپیہ
  • 1 چوانی = 14 روپیہ
  • 1 دوانی = 18 روپیہ
  • 1 آنہ/اکانی = 116 روپیہ
  • 1 ٹاکہ/اڑھانی = 132 روپیہ
  • پیسہ = 164 روپیہ
  • دھیلا = 1128 روپیہ (12 پیسہ)
  • پئی = 13 پیسہ = 1192 روپیہ
  • دمڑی = 14 پیسہ = 1256 روپیہ۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. "Frequently Asked Questions"۔ Royal Monetary Authority of Bhutan۔ 06 فروری 2022 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 جنوری 2020 
  2. "Nepal writes to RBI to declare banned new Indian currency notes legal"۔ دی اکنامک ٹائمز۔ Times Internet۔ 6 January 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 جنوری 2020 
  3. "Indian Rupee to be legal tender in Zimbabwe"۔ دکن ہیرالڈ۔ 2014-01-29۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 فروری 2021 
  4. Hungwe, Brian (2014-01-29)۔ "Zimbabwe's multi-currency confusion"۔ برطانوی نشریاتی ادارہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 جولا‎ئی 2014 
  5. "FAQ – Your Guide to Money Matters"۔ ریزرو بینک آف انڈیا۔ 12 جنوری 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 نومبر 2014 
  6. ^ ا ب وزارت مالیات، حکومت ہندوزارت مالیات، حکومت ہند (30 April 2010)۔ Sixth Report, Committee on Public Undertakings – Security Printing and Minting Corporation of India Limited (PDF)۔ Lok Sabha Secretariat۔ صفحہ: 8۔ اخذ شدہ بتاریخ 08 جون 2020 
  7. "Nepal to keep currency pegged to Indian rupee"۔ بزنس لائن۔ 11 January 2018۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 مئی 2019 
  8. "APPENDIX TABLE 4: INFLATION, MONEY AND CREDIT" (PDF)۔ ریزرو بینک آف انڈیا۔ 29 August 2016 
  9. ترجمہ و تلخیص از ہندی: شہناز بخت۔ واٹس ایپ پر شائع شدہ