ستارچہ اصل میں ایسے اجرام فلکی کو کہا جاتا ہے کہ جو کسی ستارے (سورج) کے گرد گردش کرتے۔ ان کے انگریزی نام میں oid کا لاحقہ اصل میں؛ نما یا مانند کی تشبیہ ہے اور astero کا لفظ ستارے یا نجم کی یونانی کو ظاہر کرتا ہے اس وجہ سے ان کو اردو میں ستارچہ یعنی نجم نما کہا جاتا ہے۔ اس کا ایک اور متبادل نجمیہ کا لفظ بھی ہو سکتا ہے لیکن اردو قواعد کے مطابق لاحقہ یہ عام طور پر کسی بڑے کے چھوٹے کے مفہوم میں آتا ہے نا کے کسی بڑے کی مانند یا نما کے مفہوم میں۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ نجمیے قدیم سیاروں یا ستارچوں کے ٹوٹنے سے بنتے ہیں۔ لیکن اس نظریے کا ثبوت پیش کرنا مشکل ہے۔ تاہم ان کے بارے میں اتنا کہا جا سکتا ہے کہ ان کے جسم چٹان کی طرح سخت ہیں۔

صرف ایک نجمیہ ویسٹا (Vesta) ہمیشہ برہنہ آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید دیکھیے

ترمیم
  • ستارچہ

حوالہ جات

ترمیم