سربجیت سنگھ ایک بھارتی جاسوس تھا جس نے 1990ء میں پاکستان میں گھس کر بم دھماکے کیے جس میں لاہور اور فیصل آباد میں چودہ افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے برعکس سربجیت سنگھ کے مطابق وہ بھارتی پنجاب کے ترن تاران ضلع سے ایک کسان تھا جو غلطی سے سرحد پار کرکے پاکستان میں آیا۔[1][2] بھارت واپسی کی کوشش میں گرفتار ہو گیا۔[3]

سربجیت سنگھ
معلومات شخصیت
پیدائش 18 دسمبر 1963ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 2 مئی 2013ء (50 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جناح ہسپتال، لاہور   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات ضرب بدن   ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت بھارت   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ جاسوس   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الزام و سزا
جرم قتل   ویکی ڈیٹا پر (P1399) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

اقرار جرم

ترمیم

سربجیت سنگھ کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سنہ 1990 میں اُس وقت گرفتار کیا جب وہ لاہور اور دیگر علاقوں میں بم دھماکے کرنے کے بعد واہگہ بارڈر کے راستے بھارت فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔دوران تفتیش سربجیت سنگھ نے ان بم حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا جس پر انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے انہیں1991 میں موت کی سزا سُنائی تھی۔اس عدالتی فیصلے کو پہلے لاہور ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔

معافی کیلئے درخواست

ترمیم

سربجیت کے ورثاء نے اُن کی معافی کے لیے اس وقت کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو درخواست دی تھی جسے انہوں نے رد کر دیا تھا اور انہیں مئی دو ہزار آٹھ میں پھانسی دی جانی تھی تاہم تین مئی کو حکومتِ پاکستان نے اس پھانسی پر عملدرآمد عارضی طور پر روک دیا تھا۔

اہل خانہ سے ملاقات

ترمیم

سربجیت سنگھ سے ان کے گھر والوں یعنی بیوی، بہن اور دو بیٹیوں نے اٹھارہ سال بعد اپریل دو ہزار آٹھ میں پہلی بار جیل میں ملاقات کی تھی۔[4] سربجیت سنگھ کی بہن دلبیر کور بھارتی انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے سرکردہ رہنما تھیں اور اپنے بھائی کی رہائی کے لیے بھرپور کوشش کی انہی کی طویل جد و جہد کے بعد سربجیت سے ان کی ملاقات ہو سکی تھی۔ دلبیر کور نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی رہائی کیلئے بھی بھرپور کوشش کی ۔

جیل میں سربجیت سنگھ پر حملہ کرنے والے کرنے والے قیدیوں میں سے ایک قیدی عامر تانبا کو 14 اپریل 2024ء کو لاہور میں ان کے گھر پر کسی نے گولی مار دی تھی اور جاتے ہوئے زخمی عامر تانبا کو بھی ساتھ لے گئے۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ عامر تانبا کو بھارتی ایجنسی را نے قتل کرایا جو جاتے ہوئے اس کی لاش بھی ساتھ لے گئے تھے۔

سربجیت سنگھ پر حملہ کرنے والے ملزم رہا

ترمیم

سربجیت پر حملہ کرنے والے قیدیوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بھارتی دہشت گرد نے کئی معصوم پاکستانیوں کی جان لی تھی اس لیے انہوں نے اس پرحملہ کیا۔عامر تانبا اور مدثر منیر پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا تاہم سیشن کورٹ نے بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ کے قتل کیس میں ملوث دونوں ملزمان کو بری کردیا تھا۔[5]

سربجیت سنگھ کے جاسوس ہونے کا بھارتی اعتراف

ترمیم

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز میں بھارتی انٹیلی جنس افسر کا کہنا تھا کہ سربجیت سنگھ کو پاکستان دہشت گردی کی کارروائی کے لئے بھیجا گیا تھا جس میں وہ کامیاب بھی ہوگیا لیکن فرار ہوتے ہوئے پکڑا گیا۔  بھارتی انٹیلی جنس افسر کے مطابق 1990 میں کئی بھارتی جاسوس پاکستان بھیجے گئے تھے، اس دوران بھارتی انٹیلی جینس ایجنسی ’’را‘‘ کے اعلیٰ افسران صرف ذاتی فائدوں کےلیے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے جاسوس بھیجتے تھے اور سربجیت بھی انہی میں سے ایک تھا۔

سربجیت سنگھ کی آخری رسومات سرکاری طور پر ادا کی گئیں

ترمیم

انٹیلی جنس افسر نے مزید بتایا کہ سربجیت کی آخری رسومات سرکاری طور پر بھی صرف اسی لیے ادا کی گئی کیونکہ اس کی بہن نے اس کو میڈیا میں زندہ رکھا، انٹیلی جنس افسر کے مطابق زیادہ تر جاسوس واپس آکر پیسے وصول کرنے کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔

وفات

ترمیم

لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید سربجیت سنگھ بائیس سال تک سزائے موت کا منتظر رہا۔لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے جھگڑے کے دوران سربجیت سنگھ کے سر، جبڑے، پیت سمیت جسم کے متعدد حصے زخمی ہوئے۔ سربجیت سنگھ پر حملے کا مقدمہ دو قیدیوں کے خلاف درج کیا گیا جنہیں بعد میں بری کر دیا گیا۔[6]2 مئی 2013 کو لاہور کے جناح ہسپتال میں زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے چل بسا۔بھارت میں سربجیت سنگھ کی آخری رسومات سرکاری طور پر ادا کی گئیں۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. Mark Magnier (28 جون 2012)۔ "Pakistan prisoner release confusion dashes Indian family's hopes"۔ Los Angeles Times۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 جون 2012 
  2. "Hanging of Indian 'spy' deferred"۔ BBC News۔ 29 اپریل 2008۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جون 2012 
  3. "source-says-sarabjit-singh-was-a-raw-agent"۔ ڈان۔ 5 مئی 2013ء۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  4. "بھارتی قیدی سربجیت سنگھ ہسپتال میں دم توڑ گئے" 
  5. "لاہور؛ بھارتی دہشت گرد سربجیت سنگھ پر حملہ کرنے والا فائرنگ سے زخمی" 
  6. "بھارتی قیدی سربجیت سنگھ ہسپتال میں دم توڑ گئے"