سررشتہ تالیف و ترجمہ جامعہ عثمانیہ

سررشتہ تالیف و ترجمہ جامعہ عثمانیہ کا دار الترجمہ تھا جسے سنہ 1917ء میں قائم کیا گیا۔ اس دار الترجمہ کا بنیادی مقصد جامعہ عثمانیہ کے نصاب کے لیے علوم و فنون کی کتابوں کا ترجمہ و تالیف تھا۔ سنہ 1947ء تک تقریباً تیس سال اس ادارے نے اردو زبان کی بیش بہا خدمات انجام دیں۔ تقسیم ہند کے موقع پر دار الترجمہ کی سرگرمیاں موقوف ہو گئیں، پھر اگست 1955ء میں اس کی عمارت میں آگ لگ گئی جس کی وجہ سے اس کا ریکارڈ اور عمارت میں محفوظ علمی ذخیرہ تلف ہو گیا۔ تاہم اس وقت کے بھارتی وزیر تعلیم ابو الکلام آزاد کی کوششوں سے دار الترجمہ کو بحال کیا گیا، اس کے بعد بھی ادارے کی جانب سے کچھ اہم کتابیں شائع ہوئیں۔[1]

مولوی عبد الحق سررشتہ کے پہلے ناظم مقرر ہوئے اور ان کی زیر نگرانی سررشتہ کے تین شعبے قائم کیے گئے۔ انتظامی عملہ و دفتر، دار الترجمہ و تالیف اور مجلس وضع اصطلاحات۔[2] سنہ 1947ء تک سررشتہ تالیف و ترجمہ کی جانب سے کل 369 کتابیں شائع ہوئیں۔ پہلی کتاب 1919ء میں عبد الماجد دریابادی کی ترجمہ کردہ کتاب "منطق استخراجی و استقرائی" کے عنوان سے شائع ہوئی۔[1]

اسمائے مؤلفین و مترجمینترميم

سررشتہ تالیف و ترجمہ کی جانب سے جن حضرات کی سب سے زیادہ کتابیں شائع ہوئیں ان کی فہرست درج ذیل ہے۔[1]

نام کتابوں کی تعداد
قاضی تلمذ حسین گورکھپوری 19
سید ہاشمی فریدآبادی 18
احسان احمد 16
قاضی محمد حسین 15
عبد اللہ عمادی 14
چودھری برکت علی 14

ان حضرات کے علاوہ سررشتہ تالیف و ترجمہ میں برصغیر کے ممتاز اصحاب علم و فضل بھی موجود تھے جن میں مولوی عبد الحق، مرزا محمد ہادی رسوا، عبد الباری ندوی، عبد الحلیم شرر، محمد الیاس برنی، خلیفہ عبد الحکیم اور وحید الدین سلیم شامل ہیں۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ ماہنامہ اخبار اردو، فروری 1985ء بعنوان "دار الترجمہ، حیدرآباد دکن"
  2. سر رشتہ تالیف و ترجمہ جامعہ عثمانیہ از مصطفی علی خان فاطمی، ص: 38