مرزا محمد ہادی رسوا

ناول نگار

مرزا محمد ہادی رسوا (1858ء تا 21 اکتوبر 1931ء) محمد تقی کے گھر پیدا ہوئے، ان کے والد ایران سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے تھے۔ مرزا رسوا کی شہرت اردو شاعر اور مصنف (بنیادی طور پر مذہب، فلسفہ اور فلکیات کے موضوعات پر) کی حیثیت سے ہے۔ انہیں اردو، فارسی، عربی، عبرانی، انگریزی، لاطینی اور یونانی زبانوں میں مہارت تھی۔ ان کا مشہور زمانہ ناول امراؤ جان ادا 1905ء میں شائع ہوا جو ان کا سب سے پہلا ناول مانا جاتا ہے۔ یہ ناول لکھنؤ کی ایک معروف طوائف اور شاعرہ امراؤ جان ادا کی زندگی کے گرد گھومتا ہے بعد ازاں ایک پاکستانی فلم امراؤ جان ادا (1972ء) اور دو بھارتی فلموں، امراؤ جان (1981ء) اور امراؤ جان (2006ء) کے لیے بنیاد بنا۔ 2003ء میں پاکستانی ٹی وی جیو سے اس ناول کی بنیاد پر سیریل نشر ہوا۔

ابتدائی زندگیترميم

مرزا محمد ہادی رسوا کی زندگی کی درست تفصیلات دستیاب نہیں ہیں اور ان کے ہم عصروں کی طرف سے دی گئیں معلومات میں تضادات موجود ہیں البتہ رسوا نے خود تذکرہ کیا ہے کہ ان کے آباء و اجداد فارس سے ہندوستان میں آئے اور ان کے پردادا سلطنت اودھ کے نواب کی فوج میں ایک ایڈجوٹنٹ تھے۔ جس گلی میں رسوا کا گھر تھا اسے ایڈجوٹنٹ کی گلی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے والد اور دادا کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتایا کہ وہ دونوں ریاضی اور فلکیات میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ مرزا محمد ہادی رسوا 1857ء کو، ایک گھڑسوار، فوجی افسر، مرزا محمد تقی کے گھر لکھنؤ، اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گھر میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ وہ سولہ سال کے تھے جب ان کے والدین دنیا سے کوچ کر گئے۔ نوجوانی میں وفات پانے والے ان کے بڑے بھائی مرزا محمد ذکی، ایک علمی شخصیت کے مالک تھے۔

تعلیم و تربیتترميم

اس دور کے ایک مشہور خطاط حیدر بخش نے رُسوا صاحب کو خوش خطی سکھائی اور انہیں کام کرنے کے لیے کچھ رقم ادھار بھی دی۔ لیکن حیدر بخش کی آمدنی ڈاک کی جعلی ٹکٹ سازی سے آتی تھی لہٰذا اُسے گرفتار کر لیا گیا اور ایک طویل مدت کے لیے قید کی سزا سنائی گئی۔ رُسوا کے لکھنے کے کیریئر میں اُن کی مدد کرنے والے بہت سے لوگوں میں سے ایک اردو شاعر، دبیر بھی تھے۔ رسوا نے گھر میں تعلیم حاصل کی اور میٹرک پاس کیا۔ اس کے بعد انھوں نے منشی فاضل کے کورس کا امتحان دیا اور منشی فاضل ہو گئے۔

وفاتترميم

مرزا محمد ہادی رسوا صاحب کا وصال ،1931 میں حیدرآباد دکن میں ہوا۔ تدفین معظم جاہی مارکیٹ کے قریب واقع قبرستان مرلی دھر باغ میں انجام پائی۔

انگریزی سے ترجمہ