دنیا کے مختلف ممالک میں سرنگوں پرچم (انگریزی: Half-mast) کرنے کا مقصد کسی برسر آوردہ شخصیت یا شخصیات کے گزر جانے پر سوگ کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ اس بات کا فیصلہ کہ پرچم سرنگوں رہے گا یا نہیں، ملک کی برسر اقتدار سرکردہ شخصیت کرتی ہے جن کو یہ بھی اختیار حاصل ہے کہ وہ مدت کا تعین کریں کہ پرچم کتنے عرصے تک سرنگوں رہے گا۔

عالمی شخصیات کے گزر جانے پر افسوس یا سوگترميم

جنوبی افریقا کے سیاہ فام رہنما نیلسن منڈیلا جیسی عالمی شخصیات کے انتقال پر اکثر ملکوں میں قومی سوگ کا اعلان کیا ہے اور کئی اقوام کے پرچم اس عظیم رہنما کی موت پر سرنگوں رہے ہیں۔ آسٹریلیا سے امریکہ تک تقریباً ہر ملک کی طرف سے نیلسن مینڈیلا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور عالمی رہنما جنوبی افریقا کے عوام اور حکومت کو تعزیتی پیغامات بھیجے ہیں۔[1]

عالمی روایات میں استثناءترميم

کسی بھی بڑے حادثے یا آفت کے پیش آنے پر پرچموں کا سرنگوں کیا جانا دنیا کے تمام ممالک میں ایک رواجی انداز ہے جہاں سفارت خانوں میں پرچم کو سرنگوں کیا جاتا ہے اور تمام حکومتی دفاتر اور مراکز میں سوگ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ تاہم دنیا میں ایک ملک ایسا بھی ہے جس کا پرچم سرنگوں نہیں کیا جاتا اور اس ملک کا نام مملکت سعودی عرب ہے۔ سعودی عرب ہمیشہ اپنے پرچم کو بلندی پر لہراتا رکھتا ہے اور کبھی سرنگوں نہیں کرتا۔ پرچم پر " لا الہ الا الله محمد رسول الله" کی عبارت تحریر ہے۔ اس جملے کے احترام میں یہ پرچم سرنگوں نہیں کیا جاتا کیوں کہ یہ دین اسلام میں ایمان کی دو شہادتوں (گواہیوں) پر مشتمل ہے۔[2]


مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم