سریہ عمیر بن عدی ہجرت کے دوسرے سال رمضان میں پیش آیا۔ اس میں حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمیر بن عدی خطمی کویہودی قبیلہ بنو خطمہ کی ایک شاعرہ عصماء بنت مروان خطمیہ کے قتل کے لیے روانہ کیا تھا، یہ ان کے رشتہ کی بہن بھی تھی۔[1]

سریہ عمیر بن عدی
عمومی معلومات
متحارب گروہ
عمیر بن عدی مسلمان عصماء بنت مروان ہجو گو
قائد
عمیر بن عدی عصماء بنت مروان
قوت
1 1
نقصانات
عصماء بنت مروان قتل

وجہ قتل

ترمیم

عصماء بنت مروان ہجوگو شاعرہ تھی۔ وہ اپنے اشعار میں مسلمانوں کی ہجو لکھتی اور خاص طور پر حضور اکرم ﷺ کی شان میں بڑے گستاخانہ اشعار کہتی، اپنے ایام ماہواری کے گندے کپڑے مسجد میں ڈال دیا کرتی، اسلام کے عیوب بیان کرتی تھی، اپنی قوم کو حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف جنگ کرنے پر اکساتی رہتی تھی۔ شاعر رسول حسان بن ثابت اس کا جواب دیا کرتے تھے۔ جب حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی ہجوگوئی کی اطلاع ملی تو فرمایا:

کیا میری طرف سے بنت مروان کو پکڑنے والا کوئی نہیں ہے۔
ایک نابینا صحابی  عمیربن عدی نے  عہد کرلیاکہ حضورﷺ کی بدر سے بہ سلامتی واپسی کے بعد اس شاعرہ کو قتل کردوں گا، 

واقعات

ترمیم

نابینا صحابی عمیر بن عدی خطمی بدر میں فتح کے بعد جب حضور ﷺ واپس ہوئے تو عمیر اپنی منت پوری کرنے کے لیے تلوار لے کر نکلے اور رات کے وقت اس کے گھر میں داخل ہو کر اسے قتل کر دیا۔ اور صبح آکر حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع دی کہ میں نے اسے قتل کر دیا۔ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

عمیر! تم نے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کی۔

حضورﷺ نے لوگوں سے فرمایا: اگر کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جس نے اللہ اور اس کے رسول کی غائبانہ مدد کی ہو تو وہ عمیر بن عدی کو دیکھے، حضرت عمر نے نابینا کہا تو فرمایا کہ ان کو نابینا نہ کہو، یہ بینا اور بصیر ہیں، جب وہ بیمار ہوئے تو حضور ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، عمیر نے عصماء کا قتل 26 رمضان کو کیا تھا۔

ابن عساکر کی روایت میں واقعہ کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ یہ کھجور فروخت کر رہی تھی، یہ اس کے پاس گئے اور کہا تمھارے پاس کھجور ہے؟ اس نے کہا ہاں ہے اور انھیں کھجور دکھانے لگی۔ انھوں نے کہا مجھے اس سے بھی عمدہ چاہیے۔ یہ سن کر وہ اپنے گھر میں گئی، یہ بھی اس کے پیچھے پیچھے گھر میں داخل ہو گئے، ادھر ادھر دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا، چنانچہ اس کو قتل کر دیا۔

تنقید

ترمیم

ان روایات پر ابن عدی، ابن جوزی اور البانی نے نقد کیا ہے اور موضوع قرار دیا ہے، تاہم ارباب سیر اس واقعہ کو نقل کرتے آئے ہیں۔

ماقبل:
سریہ عبد اللہ بن جحش
سرایا نبوی
سریہ عمیر بن عدی
مابعد
سریہ سالم بن عمیر

حوالہ جات

ترمیم
  1. قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری۔ "سوم"۔ رحمۃ للعالمین۔ 2۔ فرید بکڈپو لمیٹڈ۔ صفحہ: 187  ۔