سعیدہ وحید

تحریک پاکستان کا نامور کارکن

سعیدہ وحید (پیدائش: 1917ء – وفات: 15 اگست 2005ء) تحریک پاکستان کی نامور رکن تھیں۔

سعیدہ وحید
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1917  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 اگست 2005 (87–88 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابتدائی حالاتترميم

سعیدہ وحید کی پیدائش 1917ء میں لاہور میں ہوئی۔ دل و دماغ کی بہترین صفات کی حامل تھیں اور محروم خواتین کی ترقی، بیداری اور تعلیم کے لیے اُن کا کردار بے مثال رہا ہے۔ تحریک پاکستان میں فعال کردار اداء کرتے ہوئے اقبال پارک میں 1940ء کے تاریخی جلسے میں حصہ لیا۔

تحریک پاکستان میں کردارترميم

سعیدہ وحید کے سسر الحاج مولوی فیروز الدین (جنہوں نے لاہور میں فیروز سنز پبلیکیشنز قائم کیا تھا) 1940ء کے جلسہ لاہور کے اِنتظامی اُمور کی نگران کمیٹی کے رکن تھے۔ اِس حوالے سے وہ اور اُن کے شوہر نے مل کر بہت فعال کردار اداء کیا اور بہت سے باہر آئے ہوئے وفود کی خاطر مدارت اور دیکھ بھال کی۔ جب قائداعظم کی ہدایت پر مسلم لیگ میں خواتین کا علیحدہ سیکشن بنایا گیا تو اُس میں بیگم گیتی آراء بشیر احمد سیکرٹری اور بیگم سعیدہ وحید جائنٹ سیکرٹری اور پنجاب ویمن مسلم لیگ کی آرگنائزر منتخب ہوئیں۔ پنجاب ویمن مسلم لیگ کی آرگنائزر کی حیثیت سے آپ نے ہزاروں کو پرائمری لیگ کی کارکن بنایا اور محلہ کمیٹیوں کی تشکیل کی۔ آپ کے شوہر ڈاکٹر عبدالوحید اُس وقت پنجاب مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری تھے اور بہت سے رضا کاروں کو رکن بنانے کے ذِمہ دار بھی تھے جن میں جامعات کے طلباء بھی شامل تھے۔ ڈاکٹر عبدالوحید اُن پہلے آٹھ مسلم لیگی شخصیات میں سے تھے جو خضر حیات ٹوانہ کے خلاف عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے گرفتار کرلیے گئے تھے۔ اِس کے باوجود بیگم سعیدہ نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور تنہا تحریک میں سرگرم عمل رہیں۔ تحریک آزادی میں آپ نے بیگم شوکت حیات کے ساتھ مل کر مسلم لیگ کے پرچم کو لہرانے کا منصوبہ بنایا۔

وفاتترميم

بیگم سعیدہ وحید نے تقریباً 87 سال کی عمر میں بروز 15 اگست 2005ء کو لاہور میں وفات پائی۔ تدفین حضرت ایشاں کے دربار سے ملحق مولوی فیروز الدین احاطہ میں کی گئی۔ [1]

حوالہ جاتترميم

  1. ایم آر شاہد: مشاہیر لاہور، جلد 2، صفحہ 157 ۔