سلیمہ مزاری

افغان سیاست دان

سلیمہ مزاری ( (پشتو: سلیمہ مزاری‎)‏ ; پیدائش 1980ء) ایک افغان سیاست دان ہیں، جنہوں نے افغانستان کے صوبہ بلخ کے ضلع چارکنت کی ضلعی گورنر اور افغانستان میں تین خواتین ضلعی گورنروں میں سے ایک کے طور پر خدمات انجام دیں۔ [3]2021ء کے طالبان کے حملے کے دوران میں، انھوں نے فرار ہونے سے انکار کر دیا جیسا کہ ملک کے کئی دوسرے گورنروں نے کیا، ان کے ضلع نے طالبان کے خلاف نمایاں مزاحمت کی۔

سلیمہ مزاری
(پشتو میں: سلیمه مزاری ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1980 (عمر 41–42 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ایران[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ تہران  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات

سوانحترميم

مزاری 1980ء میں ایران میں ایک پناہ گزین خاندان کے ہاں پیدا ہوئیں، [4][5] کیوں کہ ان کا خاندان افغانستان پر سوویت حملے سے بچ نکلا تھا۔ [6] وہ ایران میں پلی بڑھی، افغانستان واپس آنے سے پہلے، جامعہ تہران سے ڈگری حاصل کی اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے لیے کام کیا۔ [7] 2018 ءمیں، انہیں صوبہ بلخ کے ضلع چارکنت کی ضلعی گورنر نامزد کیا گیا۔ گورنر کے طور پر، انھوں نے طالبان کے خلاف جنگ میں مقامی ملیشیاؤں کو بھرتی کرنے کے لیے ایک سیکورٹی کمیشن تشکیل دیا۔ [8] 2020ء میں، انھوں نے اپنے صوبے میں 100 سے زیادہ طالبان فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کے لیے بات چیت کی۔ [9]

2021ء کے طالبان کے حملے کے دوران میں، انھوں نے فرار ہونے سے انکار کر دیا جیسا کہ ملک کے کئی دوسرے گورنروں نے کیا، ان کے ضلع نے طالبان کے خلاف نمایاں مزاحمت کی۔ کابل کے سقوط کے بعد اسلامی جمہوریہ افغانستان کے مکمل خاتمے تک، ان کا علاقہ ملک کے ان چند اضلاع میں سے ایک تھا جو طالبان کے زیر قبضہ نہیں تھے۔ [10] 18 اگست کے بعد سے خبروں میں تشویش تھی کہ آیا انہیں طالبان نے پکڑ لیا ہے۔ [11][12][13] ٹائم ڈاٹ کام کی بعد کی خبر کے مطابق، مزاری صوبائی گورنر کے دفتر میں تھیں جب بلخ کے ہتھیار ڈالنے اور مزار شریف کے زوال کی خبر ان تک پہنچی، اپنے ضلع چارکنت کو بھی مسدود ہونے کا احساس ہونے کے بعد انہوں نے خون خرابے سے بچنے کے لیے لڑائی بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور 2021 ء میں افغانستان سے امریکی انخلا کی مدد سے نامعلوم امریکی مقام پر چلی گئیں۔ [13]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. https://www.bbc.com/news/world-59514598 — اخذ شدہ بتاریخ: 11 دسمبر 2021
  2. https://www.bbc.com/news/world-59514598
  3. "'This is the first time I am holding a gun': Afghans take up arms to fight the Taliban". The World from PRX. 
  4. "'Sometimes I have to pick up a gun': the female Afghan governor resisting the Taliban". The Guardian. 11 اگست 2021. 
  5. "The Taliban captured a female Afghan governor who recruited militants to fight the Taliban, report says". Insider. 19 اگست 2021. 
  6. "Salima fights on frontline against Taliban and corruption". جون 14, 2020. 
  7. Zainab Pirzad (11 اگست 2021). "'Sometimes I have to pick up a gun': the female Afghan governor resisting the Taliban". The Guardian. اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2021. 
  8. O’Donnell، Lynne. "With the Militias in Afghanistan". 
  9. "The woman convincing the Afghan Taliban to give up arms". The National. 
  10. Geeta Mohan (18 اگست 2021). "Salima Mazari, who took up arms to fight Taliban in Balkh Province, captured in Afghanistan". India Today. اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2021. 
  11. "Afghanistan Crisis: Salima Mazari, who raised her voice against Taliban, taken hostage". Zee News. 18 اگست 2021. اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2021. 
  12. "Who is Salima Mazari? 7 Things About The Afghani Woman Governor Who Has Been Captured". Shethepeople. 18 اگست 2021. اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2021. 
  13. ^ ا ب Hassani، Zakarya؛ Huang، Robyn (ستمبر 14, 2021). "How Female Afghan Governor Salima Mazari Escaped the Taliban". Time (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 15 ستمبر 2021.