سید زوار حسین شاہ

سید زوار حسین شاہ سلسلہ نقشبندیہ کے معروف عالم دین اور فقہ حنفی کے متبحر عالم تھے۔

آبائی وطنترميم

مولانا سید زوار حسین شاہ کا آبائی وطن قصبہ گوہلہ ،تحصیل کیتھل ،ضلع کرنال، ہندوستان ہے ۔

ولادتترميم

زوار شاہ کے والد ماجد سید احمد حسین تھے، جن کے ہاں آپ کی ولادت آبائی قصبے گوہلہ،تحصیل کیتھل میں بروز پیر 26 ذی الحجہ 1329ھ مطابق 18 دسمبر 1911ء میں ہوئی۔ ڈیڑھ سال کی عمر میں والدہ ماجدہ کا سایہٗ شفقت اُٹھ گیا اور جب آپ کی عمر 17تقریباً سال کی تھی تو آپ کے والد بھی وفات پاگئے۔

شجرہ نسبترميم

آپ کا شجرہ نسب حسین سے جا ملتا ہے۔ زین العابدین کے ایک صاحب زادے سید حسین اصغر کی اولاد ایک عرصے تک مدینہ منورہ میں قیام پزیر رہی، اس خاندان کا تفصیلی تذکرہ سید قمر عباس اعرجی نے اپنی کتاب مدرک الطالب اور روضۃ الطالب فی اخبار آل ابیطالب میں کیاخلافتِ عباسیہ کے دور میں عباسی خلفاء کے اصرار پر آپ کا خاندان بغداد چلا آیا۔ جب وہاں کے حالات سازگار نہ رہے تو اوپر کی طرف سے ساتویں پشت کے بزرگ سید حسین ناصر اپنے خاندان کے ہمراہ ترمذ تشریف لے آئے۔ ان کی چوتھی پشت میں ایک بزرگ سید احمد توختہ تھے جن کا لاہور میں مزار ہے اور وہ ‘‘مرشدِ پنجاب ’’ کے لقب سے مشہور ہیں۔ پھر سید احمد توختہ کی پانچویں پشت میں اس خانوادے کے ایک جلیل القدر بزرگ شاہ زید تبلیغَ دین کے سلسلے میں سالارِ لشکر ہوکر ‘‘ سیانہ برہمنان ’’ تشریف لائے، جو کرنال کے علاقے میں تھا۔ یہ خلجی خاندان کے دورِ اقتدار کی بات ہے، شاہ زید رحمۃ اللہ علیہ نے کرنال میں سیانہ پہنچ کر زبردست معرکہ آرائی کے بعد اس کو فتح کر لیا۔ اس جنگ میں کچھ مسلمان بھی شہید ہوئے، جو اس علاقے میں مدفون ہیں۔ فتح حاصل ہونے کے بعد شاہ زید ؒ اپنے خاندان کے ہمراہ وہیں آباد ہو گئے۔ اور سیانہ برہمنان ‘‘ سیانہ سیدان’’ کے نام سے مشہور ہو گیا۔

حلیہ مبارکترميم

شاہ صاحب معتدل القامہ اقرب اطویل تھے۔ بدن دہرا گٹھا ہوا اور گداز، اعضاء نہایت متناسب، رنگ گندمی مائل بہ سفیدی، سر کے بال سفید، سیدھے مگر باریک اور ریشم کی طرح ملائم، فراخ جبیں، ریش مبارک گنجان، آواز درمیانی۔ آنکھوں میں علم کا نور اور پیشانی پر فراخیٗ علم و عمل کا وقار ۔ لباس صاف ستھرا، خوش وضع اور سفید، رفتار تیز، قدم نپے تُلے، نیچی نگاہیں، کوئی ہمراہی ساتھ نہ دے سکتاتھا، کم گوئی خاص عادت تھی۔ بلا ضرورت کلام نہ فرماتے لیکن اگر کوئی علمی سوال کرتا تو پوری شرح و بسط کے ساتھ بیان کرتے اور گھنٹوں بے تکان بولتے اور سننے والے کو مطمئن کردیتے تھے۔ مزاج میں بھی بڑا اعتدال تھا۔ نہ تو زاہدِ خشک تھے اور نہ ہی ایسے کوش طبع کہ جملے جملے پر محفل قہقہوں سے گونج اُٹھے۔ بچوں پر شفقت فرماتے اور اہلِ خانہ کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے۔ طبیعت میں نفاست بہت زیادہ تھی۔ تواضع و انکسار کے پیکر اور تقوے ٰ و اخلاص میں ممتاز تھے۔ غرض تمام معاملات میں سنتِ نبوی علی صاحبہاالصوٰۃ و السلام کا عملی نمونہ تھے۔

ملازمتترميم

1926ء میں مڈل کا امتحان پاس کرنے کے بعد ٹھسکہ میراں صاحب کے اسکول سے جو گوہلہ سے تیس میل کے فاصلے پر اور شاہ آباد سے تقریباً 8 میل دور ہے اعلیٰ نمبروں سے مڈل کا امتحان پاس کرنے کے بعد اسی اسکول میں ٹیچر مقرر ہو گئے۔ 1929 ء میں نارمل ٹریننگ کے لیے داخلہ لیا اور 1930ء میں جے وی کا امتحان پاس کر لیا، جس کے بعد گوہلہ کے قریب اگوند نامی قصبے میں اول مدرس پرائمری اسکول کی حیثیت سے تقرر ہو گیا، دوسال بعد اجرانہ کلاں تحصیل تھانیسر میں تبادلہ ہو گیا۔ اسی دوران میں 1929ء یا 1930 ء میں آپ کی شادی خانہ آبادی بھی انجام پائی، کچھ عرصے کے لیے آپ کا اجرانہ خورد بھی تبادلہ کیا گیالیکن یہ گاؤں خالص ہندو آبادی پر مشتمل تھا اس لیے آپ کو وہاں کھانے پینے، نماز روزے اور دیگر معاملات و معمولات میں تکلیف اُٹھانی پڑی، جس کی وجہ سے آپ نے دوبارہ اجرانہ کلاں میں تبادلے کے لیے درخواست دی جو قبول کرلی گئی، پھر سال ڈیڑھ سال بعد اس سے کچھ فاصلے پر بیر سال نامی گاؤں میں آپ کا تبادلہ کر دیا گیا، لیکن وہاں آب و ہوا آپ کو موافق نہ آئی اور طبیعت ناسازگار رہنے لگی تو سر رحیم بخش وزیرِ اعظم ریاست بہاولپور کے مشورے اور سفارش پر دہلی تشریف لے گئے اور وہاں ابتدا میں 17 فروری 1933ء میں ایک پرائمری اسکول میں تقرر ہو گیا اور پھر اسی سال ایم بی میونسپل بورڈ ماڈل اسکول کابلی گیٹ دہلی میں اورینٹل ٹیچر کی حیثیت سے مستقل تقرر ہو گیا، تقریباً نو سال یہاں فرائض تدریس انجام دیے، پھر ایم بی ماڈل اسکول جامع مسجد میں تبادلہ ہو گیا، یہاں پانچ سال رہے پھر تقسیم سے چند ماہ پہلے دوبارہ کابلی گیٹ تبادلہ ہو گیا وہیں سے پاکستان تشریف لے آئے۔

تصوفترميم

1930ء کے عرصے میں شاہ صاحبؒ کا ذوقِ مطالعہ آپ کو تصوف کی وادی میں لے آیا۔ اس دوران مولانا اسلام الدین صاحب سے ملاقات ہوئی جو خواجہ محمدسعیدقریشی ہاشمی سے نسبت رکھتے تھے۔ ان کی سیرت و اخلاق سے متاثر ہوکر ان ہی کے توسط سے شاہ صاحب بھی خواجہ محمد سعید قریشی سے غائبانہ بیعت ہو گئے۔ 1932ء ہی میں شاہ صاحب نے منشی فاضل اور پھر مولوی فاضل کا امتحان بھی پاس کیا۔ جس کی تیاری آپ نے پانی پت میں مولانا مفتی عبد الرحیم اور مولانا عبد الحلیم صاحب انصاری کی خدمت میں رہ کر کی، اسی عرصے میں خواجہ محمد سعید قریشی پانی پت تشریف لائے تو شاہ صاحب کو ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا اور آپ بالمُشافہ بیعت ہوئے۔

اجازت و خلافتترميم

مئی یا جون 1935ء میں خواجہ محمد سعید قریشی نے شاہ صاحب کو اپنا ایک مکتوب دے کر اپنے مرشد خواجہ فضل علی قریشی کی خدمت میں روانہ فرمایا۔ اس مکتوب میں شاہ صاحب کو خلافت دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ خواجہ فضل علی قریشی اس دوران میں سفر میں تھے۔ حضرت شاہ صاحب بھی راستے میں ان کے قافلے کے ساتھ شریک ہو گئے۔ چند روز بعد یہ قافلہ واپس احمد پور شرقیہ پہنچا۔ وہاں خواجہ فضل علی قریشی نے خواجہ محمد سعید قریشی کی موجودگی میں ایک مجمعِ عام میں شاہ صاحبؒ کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کی اجازت خلافت عطا فرمائی اور نصیحت فرمائی۔

وفاتترميم

سید زوار حسین شاہ 22 رمضان المبارک 1400ھ مطابق 5 اگست 1980ء بروز منگل وفات پا گئے۔ مرحوم کا مزار مبارک پاپوش نگر قبرستان ناظم آباد نمبر ٥ میں واقع ہے..

سید زوار حسین شاہ کی تالیفات و تراجمترميم

تالیفاتترميم

تراجم =ترميم

حوالہ جاتترميم