شقران صالح رسول اللہ کی خدمت پر مامور حبشہ کے غلام صحابی تھے۔

شقران صالح
معلومات شخصیت
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام ونسبترميم

صالح نام، شقران لقب اور والد کا نام بھی تھا، یہ عبدالرحمن بن عوف کے حبشی نژاد غلام تھے،لیکن اس غلامی میں بھی سیادت مقدر تھی ،رسول خدا ﷺ نے ان کو اپنی خدمت گزاری کے لیے پسند فرمایا اور عبد الرحمن کو قیمت دے کر خرید لیا، بعض روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے بلا معاوضہ نذر کیاتھا۔[1]

غزواتترميم

غزوات میں عموماً مالِ غنیمت اورقیدیوں کی حفاظت پر مامور ہوتے تھے اور غنیمت میں حصہ پانے کی بجائے جن کے قیدیوں کی نگرانی کرتے تھے، وہ بطور خود معاوضہ دیتے تھے، چنانچہ غزوۂ بدر میں ان کو اس قدر معاوضہ ملاکہ مالِ غنیمت میں حصہ پانے والوں سے بھی زیادہ نفع میں رہے۔[2]

خدمت رسولترميم

آنحضرت ﷺ ان کے خدمات سے اس قدر خوش تھے کہ وفات کے وقت آپ نے مخصوص طور سے ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت فرمائی، شقران رسول اللہ ﷺ کی تجہیز وتکفین میں اہل بیت کے ساتھ شریک تھے، غرض یہ آخری خدمت تھی جو اس غلام جانثار نے اپنے شفیق آقا کے لیے انجام دی۔[3]

وفاتترميم

اس میں اختلاف ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد شقران نے مدینہ میں سکونت اختیار کی یا بصرہ میں اقامت گزین ہوئے، کیونکہ ان کا ایک مکان میں بصرہ میں بھی تھا۔[4] اسی طرح جائے وفات اورزمانہ بھی متعین نہیں۔ ان کی نسل ہارون الرشید کے عہد میں ختم ہوئی۔[5]

حوالہ جاتترميم

  1. اصابہ :2/153
  2. طبقات ابن سعد قسم 1،جز3:34
  3. اسد الغابہ:3/11
  4. اصابہ :2/173
  5. اصحاب بدر،صفحہ 95،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور