مرکزی مینیو کھولیں
  • یہ مضمون پہلی شمالی صلیبی جنگوں کے بارے میں ہے، صلیبی جنگوں کا مکمل مضمون یہاں دیکھیے
پوپ سلستین سوم

شمالی صلیبی جنگیں (انگریزی: Northern crusades) یا بالٹک صلیبی جنگیں وہ صلیبی جنگوں تھیں جو ڈنمارک، پولینڈ اور سویڈن، جرمن لوونی اور ٹیوٹونک فوجی آرڈر کے مسیحی بادشاہوں اور ان کے اتحادیوں کی نے بالٹک سمندر کے جنوبی اور مشرقی ساحلوں کے گرد شمالی یورپ کے کافر لوگوں کے خلاف کیں۔ بعض اوقات روس کے مشرقی آرتھوڈوکس چرچ کے خلاف سویڈش اور جرمن کاتھولک مہمات کو بھی شمالی صلیبی جنگوں کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ قرون وسطی کے دوران ان جنگوں کو صلیبی جنگیں کہا جاتا تھا، لیکن سویڈن قوم پرست مورخین کے علاوہ بعض دیگر مورخین نے سب سے پہلے انیسویں صدی میں انہیں صلیبی جنگوں کا نام دیا۔

تعارفترميم

شمالی صلیبی جنگوں کا باقاعدہ نقطہ آغاز اگرچہ 1193ء میں پوپ کیلیسٹانا سوم کے ایک اعلان سے ہوا لیکن اسکینڈے نیویا، پولینڈ اور مقدس رومی سلطنت کی مسیحی مملکتوں نے اس سے بہت پہلے اپنے کافر پڑوسیوں کو سرنگوں کرنے کی ابتدا کر دی تھی۔ غیر مسیحی لوگ جو مختلف مہمات کا ہدف تھے ان کی فہرست درج ذیل ہے۔

  1. ۔ ایلب اور آرڈر دریاؤں کے درمیان پولابیان واندس، ساوربس اور اوبوٹراٹیس کے لوگوں کے خلاف (1147 سے، ابتدا میں وانڈاش اور بعد میں سیکسن، ڈینز اور پولش باشندوں کی طرف سے )
  2. ۔ 1154 (موجود) فن لینڈ کے لوگوں کے خلاف
  3. ۔ 1249؟ (تواسٹیا) اور (کاریلیا) کے لوگوں (سویڈش صلیبی جنگوں، اگرچہ چراسٹیانازٹاون اس سے پہلے شروع ہو گئی تھی)
  4. ۔ 1193 ء-1227 میں لوونینز، لٹگالینز، سالونینز اور ایسٹونینز کے خلاف (جرمنوں اور ڈینز کی طرف سے )
  5. ۔ 1219-1290 میں سیمی گالینز اور کورونینز پر
  6. ۔ قدیم پرشیا کے لوگوں کے خلاف مہمات
  7. ۔ 1236 میں لیتھوینز اور ساموگی ٹینز (جرمنوں کی طرف سے ناکامیاب کوشش)