فیض آباد ضلع (انگریزی: Faizabad district) بھارت کا ایک ضلع جو اتر پردیش میں واقع ہے۔[1]


फैजाबाद जिला
اترپردیش کا ضلع
اترپردیش میں محل وقوع
اترپردیش میں محل وقوع
ملکبھارت
ریاستاترپردیش
انتظامی تقسیمفیض آباد
صدر دفترفیض آباد
حکومت
 • لوک سبھا حلقےفیض آباد
رقبہ
 • کل2,799 کلومیٹر2 (1,081 میل مربع)
آبادی (2011)
 • کل2,468,371
 • کثافت880/کلومیٹر2 (2,300/میل مربع)
آبادیات
 • خواندگی70.63 فی صد
 • جنسی تناسب961
ویب سائٹسرکاری ویب سائٹ

فیض آباد شہر کو اودھ کے پہلے نواب سعادت علی خان نے 1730ء میں آباد کیا تھا،انھوں نے شہر کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اسے اودھ کا دار الحکومت بنایا لیکن وہ یہاں بہت کم وقت قیام کرسکے۔ ان کی رحلت کے بعد تیسرے نواب شجاع الدولہ نے بھی فیض آباد کو ہی دار الحکومت بنائے رکھا۔ انھوں نے سریو ندی کے کنارے 1764ء میں ایک قلعہ تعمیر کرایا۔ ان کا اور ان کی بیگم کا مقبرہ اسی شہر میں موجود ہے، ان کے دور میں شہر چہار جانب سے پھلا پھولا۔ اس وقت مشرقی اترپردیش میں اس کے مقابل میں کوئی شہر نہیں تھا۔لیکن چند برس میں 1775ء میں سیاسی وجوہات کی بنا پر اودھ ریاست کا دار الحکومت فیض آباد کی بجائے لکھنؤ بنادیا گیا۔ ریاست کا تمام کاروبار لکھنؤ منتقل ہو گیا۔ 19/ویں صدی آتے آتے فیض آباد شان و شوکت کھوتا چلا گیا، ملک آزاد ہونے کے بعد اس شہر کو ایک مرتبہ پھر علاقے کا ضلع صدر مقام بننے کا شرف حاصل ہوا۔

ہندو عقیدے کے مطابق فیض آباد کے قصبہ ایودھیا میں رام جی کی پیدائش ہوئی اس لیے یہ مقام ان کے یہاں معتبر مانا جاتاہے اور دیوالی اس لیے منائی جاتی کہ رام جی ونواس کے بعد جب ایودھیا واپس لوٹے تھے تو علاقائی لوگوں نے ان کی آمد کی خوشی میں شمعیں جلائیں تھیں۔

6/نومبر 2018 بروز منگلوار اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی ادتیہ ناتھ نے فیض آباد ضلع کا نام تبدیل کرکے رام جی کی جائے پیدائش سے موسوم ایودھیا کے نام پر رکھ دیا۔ یوگی ادتیہ ناتھ اس موقع وہاں دیپ اتسو منانے آئے تھے اور انھوں نے کہا فیض آباد کی بجائے ضلع کا نام ایودھیا رکھا جائے کیونکہ ایودھیا ہماری ہندو وراثت کا حصہ ہے اور ہماری تاریخی روایت اور مذہبی جذبات جڑے ہیں۔

تفصیلات

ترمیم

فیض آباد ضلع کی مجموعی آبادی 2,468,371 افراد پر مشتمل ہے۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین۔ "Faizabad district"