طغرل حاجب ایک سپاہی تھا اور سیستان کی طرف بھیجے جانے والے لشکر کا سپہ سلار تھا۔ جب اس نے سلطنت غزنویہ کے حکمران کو کمزور پایا تو غزنی پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا اور خود سلطان بن گیا۔

طغرل حاجب
(عربی میں: طغرل بوظان ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
وفات سنہ 1053ء   ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
غزنی   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات سر قلم   ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت غزنویہ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
سلطان سلطنت غزنویہ   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
1052  – 1053 
عزالدولہ عبدالرشید غزنوی  
فرخ زاد غزنوی  

سلطان عبد الرشید کا قتل

ترمیم

توستگین کو لاہور بھیجنے کے بعد مودود نے اپنے برادر نسبتی طغرل حاجب کو بھی ایک بہت بڑی فوج کا سردار بنا کر سیستان روانہ کیا۔ اس نے سیستان پہنچ کر اس علاقے کو پوری طرح فتح کر لیا اور یہاں ایسے قدم جمائے کے حکمرانی کے خواب دیکھنے لگا۔ اس نمک حرام کی اس حد تک ہمت بڑھی کہ اس نے اپنے لشکر کے ساتھ غزنی پر حملہ کر دیا۔ سلطان عبد الرشید کو جب طغرل کی آمد کی خبر ملی تو وہ مجبورا قلعہ میں پناہ گزین ہو گیا۔ طغرل نے اس قلعے کو تسخیر کر لیا اور عبد الرشید کے علاوہ غزنوی خاندان کے دوسرے نو (9) افراد کو بھی موت کے گھاٹ اتارا۔ طبقات ناصری میں تحریر ہے کہ کسی نے طغرل سے سوال کیا امارت کو چھوڑ کر تجھے بادشاہت کا خبط کیوں کر ہوا۔ طغرل نے جواب دیا۔ جب عبد الرشید نے مجھے سیستان کی مہم پر روانہ کیا اس وقت اس نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر مجھ سے وفاداری کا عہد لیا۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ بادشاہ کا سارا بدن خوف کی وجہ سے کانپ رہا ہے۔ اسے اس عالم میں دیکھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ایسا ڈر پوک شخص بادشاہت کے قابل نہیں ہے اور اسی وجہ سے میں نے بادشاہت حاصل کرنے کی کوشش کی اور اپنے ارادے میں کامیاب و کامران ہوا۔

طغرل حاجب کی بادشاہت

ترمیم

طغرل غزنوی تاج و تخت کا مالک بن دینا اور اس نے سلطان مسعود غزنوی کی لڑکی سے شادی کر لی۔ ان تمام نمک حرامیوں کی وجہ سے اسے تاریخ میں طغرل کافر نعمت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ طغرل نے عنان حکومت سنبھالنے کے بعد توستگین کرخی کو (جو عبد الرشید کے حکم سے پشاور میں مقیم تھا) ایک محبت آمیز خط لکھ کر اسے اپنے بہی خواہوں میں شریک کرنے کی چال چلی۔ توسنگین نے وفا داری کے دامن کو ہاتھ سے نہ چھوڑا اور طغرل کو اس کے خط کے جواب میں سخت سست کہا اور اس کی نمک حرامی پر اسے بہت لعنت ملامت کی۔ طغرل کو اس کے خط کا جواب دینے کے بعد توسنگین نے ایک خفیہ خط سلطان مسعود کی بیٹی کے نام لکھا اور اسے طغرل کو قتل کرنے پر اکسایا۔ دختر مسعود کے علاوہ توسنگین نے غزنوی خاندان کے پروردہ و پرداختہ امرا کو بھی خطوط بھیجے اور ان کی خاموشی پر لعنت ملامت کر کے ان کے ضمیر کو بیدار کیا۔ توستگین کے خطوط ملتے ہی تمام امرا کی رگوں میں شرافت کا لہو کھولنے لگا۔ سب نے آپس میں مل کر طغرل کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

طغرل کا قتل

ترمیم

نو روزی کے دن طغرل دربار عام منعقد کر کے سلطان محمود کے تخت پر بیٹھا ہوا تھا کہ ان امرا نے جنھوں نے طغرل کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا موقع پا کر ایک دم اسے قتل کر دیا۔ [1] طغرل چالیس دن تک تخت محمودی پر بیٹھ پایا تھا۔ چالیس دن ظلم و جوار کے ساتھ چالیسویں دن ہی درباری نو روزی گرم تھا کہ ایک ترک سلحدار نے شہر باری پر اسے قتل کر دیا۔ [2]

حوالہ جات

ترمیم
  1. تاریخ فرشتہ تالیف محمد قاسم فرشتہ اردو متراجم عبد الحئی خواجہ جلد اول صفحہ 115، 116
  2. ہندوستان کے مسلمان فاتح و تاجدار مولف سید محمد عمر شاہ صفحہ 52 ، 53