ظہار خاوند اپنی بیوی کو اپنی ماں سے تشبیہ دے

لغوی معنیترميم

یہ لفظ ظہر سے مشتق ہے جس کے لغوی معانی پیٹھ اور پشت کے ہیں۔

اصطلاحی معنیترميم

اصطلاح شریعت میں [ظہار کے معنی یہ ہیں کہ: کوئی شخص اپنی بیوی کو یوں کہہ دے: ”تو مجھ پر میری ماں یا بہن (یا کوئی اور محرم خاتون) جیسی ہے“ اس کا حکم یہ ہے کہ اس لفظ سے طلاق نہیں ہوتی، لیکن کفارہ ادا کیے بغیر بیوی کے پاس جانا حرام ہے۔ اور کفارہ یہ ہے کہ دو مہینے کے لگاتار روزے رکھے اور اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے، تب اس کے لیے بیوی کے پاس جانا حلال ہوگا۔[1]

اثرترميم

ظہار کا شرعی حکم یہ ہے کہ اصل نکاح باقی رہتا ہے مگر کفارہ ادا کیے بغیر تعلقات زن و شوہر قائم کرنا حرام ہے۔ ظہار کا کفارہ اسی صورت میں واجب ہے جب ظہار کرنے والا شخص اپنی بیوی سے مجامعت کا ارادہ رکھتا ہے۔ کفارہ یہ ہے کہ یا تو مرد ایک غلام آزاد کرے یا دو مہینے متواتر روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے لیکن ضروری ہے کہ کفارہ مردوزن کے خلوت والے تعلق سے پہلے ادا کیا جائے۔

اسلام سے پہلے ظہار کو طلاق کے مترادف سمجھا جاتا تھا لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نرم کرکے کفارہ ادا کرنے کی وقتی پابندی میں تبدیل کر دیا۔

قرآن میں بیانترميم

  قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ    
  الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَائِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا وَإِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ    
اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار اوراللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی اوراللہ آپ دونوں میں گفتگو سن رہا تھا اللہ یقینا بڑا سننے والا دیکھنے والاہے۔ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں (انہیں ماں کہہ دیتے ہیں )وہ ان کی مائیں نہیں ان کی مائیں تو صرف وہی ہے جنہوں نے انہیں جناہے۔ اور بلا شبہ یہ لوگ نا پسندیدہ باتیں کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں اورا للہ یقینا بڑا در گزر کرنے والا مغفرت کرنے والاہے۔ اور جولوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں پھر اپنے قول سے ہٹ جائیں تو انہیں باہمی مقاربت سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا چاہیے اس طرح تمہیں نصیحت کی جاتی ہے جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب باخب رہے۔ پس جسے غلام نہ ملے وہ باہمی مقاربت سے پہلے متواتر دو ماہ کے روزے رکھے اور جو ایسا بھی نہ کر سکے وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا ئے یہ اس لیے ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھویہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں اور کفار کے لیے درد ناک عذاب ہے۔"( سورہ مجادلہ1۔4)[2]

حوالہ جاتترميم